BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 December, 2003, 15:02 GMT 20:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل کا جوہری پروگرام؟

اسرائیل نے فرانس کی معاونت سے جوہری پلانٹ بنایا تھا
اسرائیل نے فرانس کی معاونت سے جوہری پلانٹ بنایا تھا

امریکی خفیہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے انیس سو اڑسٹھ میں جوہری ہتھیار بنانے شروع کر دیئے تھے لیکن آج تک اسرائیل نے سرکاری طور پر تسلیم نہیں کیا کہ وہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بائیس دسمبر کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی پریس کانفرنس میں وائٹ ہاوس کے پریس سیکرٹری سکاٹ میکلنن سے اس سلسلے میں کئی سوالات کئے گئے۔ لیکن میکلنن سیدھا جواب دینے سے گریز کرتے رہے۔

لیبیا کی طرف سے جوہری ہتھیار تلف کرنے کے اعلان کے بعد سے مشرق وسطی کے ملکوں میں اسرائیل کے جوہری پروگرام کے بارے میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ باوجود اس حقیقت کے کہ اسرائیل کے جوہری پلانٹ دیمونہ کی بنیاد انیس سو پچاس کی دہائی میں نقب صحرا میں رکھ دی گئی تھی لیکن اب تک دنیا کو اس پروگرام کے بارے میں زیادہ علم نہیں۔

اسرائیل نے جوہری عدم پھلاؤ کے عالمی معاہدوں پر دستخط نہیں کئے ہیں لہذا جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کا عالمی ادارہ بھی اس پروگرام تک رسائی حاصل نہیں کر سکا۔

وانونو پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا

میکلنن سے پریس کانفرنس میں جب یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا امریکی صدر اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کے بین الاقوامی معائنہ کے حامی ہیں تو انہوں نے کہا کہ امریکہ روایتی طور پر جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں کہ کیا امریکہ اسرائیل پر جوہری ہتھیاروں کے عالمی معاہدوں پر دستخط کرنے کے لیے دباؤ ڈالے گا تو انہوں نے کہا کہ یہ سوال تو اسرائیل کی حکومت سے کیا جانا چاہئے۔ سوال کرنے والے نے وضاحت کی کہ وہ امریکہ کی پالیسی کے بارے میں سوال کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ یہ واضح کر چکے ہیں کہ امریکہ جوہری عدم پھیلاؤ کی پالیسی پر کاربند ہے۔

اسرائیل کا پر اسرا ر جوہری پروگرام

 اسرائیل کے جوہری پروگرام کا خفیہ ہونا ہی اس کی اصل طاقت ہے

سابق وزیر اعظم شمعون پریز

اس پریس کانفرنس میں اسرائیل کےجوہری پروگرام کے بارے میں دوبارہ سوال کیا گیا اور سوال کرنے والے نے استفسار کیا کہ کیا امریکہ کو اسرائیل کے ہتھیاروں کے بارے میں کوئی علم نہیں تو انہوں نے کہا کہ’میرے خیال میں میں کہا چکا ہوں کہ یہ سوالات اسرائیل کی حکومت سے کئے جانے چاہئیں۔‘

ابھی تک اسرائیل کا پروگرام انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے اور اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں کہ اسرائیل نے کبھی ایٹمی دھماکہ کیا ہو۔ تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ انیس سو نواسی میں بحیرہ ہند کے جنوب میں ہونے والا ایک دھماکہ جنوبی افریقہ اور اسرا ئیل نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ جنوبی افریقہ نے نسل پرستی کے خاتمے کے بعد اپنا جوہری پروگرام ختم کر دیا ہے۔

آئی اے ای اے

 انٹرنیشل ایٹامک انرجی ایجنسی کا خیال ہے کہ اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں

آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادعی

اسرائیل کے جوہری پروگرام سے انیس سو اسی میں دیمونہ میں کام کرنے والے ایک سابق کارکن موردخائی وانونو نے پردہ اٹھایا تھا۔ وانونو نے برطانیہ میں ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے اسرائیل کے جوہری پروگرام کے بارے میں تفصیلات مہیا کی تھیں۔

اس کے بعد اسرائیل کے خفیہ اداروں نے ایک خاتون ایجنٹ کے ذریعے وانونو کو روم جانے پر آمادہ کیا اور پھر وہاں سے انہیں اغواء کر کے اسرائیل لے جایا گیا۔ ان پر بغاوت کا مقدمہ چلایا گیا اور وہ ابھی تک قیدِ تنہائی بھگت رہے ہیں۔

اسرائیلی اٹامک انرجی کمیشن کی بنیاد انیس سو باون میں رکھی گئی اور اس نے اسرائیلی فوج کے ساتھ مل کر کام شروع کیا۔ انیس سو تریپن میں فرانس کی معاونت سے نقب کے صحرا میں یورینیم کو افزودہ کرنے اور بھاری پانی بنانے کے کام میں مہارت حاصل کر لی گئی۔

واشنگٹن میں قائم ایک کمپیوٹر ویب سائٹ (globalsecurity.org) کے مطابق فرانس اور اسرائیل کے درمیان اس سلسلے میں انیس سو پچاس میں معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔

انیس سو ساٹھ تک اسرائیل اس کو ٹیکسٹائل پلانٹ، زرعی اسٹیشن اور تحقیقی ادارہ کہہ کر چھپاتا رہا۔ انیس سو ساٹھ میں پہلی مرتبہ اس وقت کے وزیر اعظم بن گوریان نے تسلیم کیا کہ یہ ایک ایٹمی پلانٹ ہے۔

اسرائیل کے پروگرام کے بارے میں اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت اور پاکستان کا جوہری پروگرام نسبتاً کم عمر ہے لیکن اس کے باوجود ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بیس سے زیادہ ایٹم بم بنا چکے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد