موردیہائی ونونو دوبارہ گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس ذرائع کے مطابق سابق جوہری ٹیکنیشن موردیہائی ونونو کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہیں اس سال اپریل میں اٹھارہ سال بعد جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ انہیں خفیہ معلومات کے تبادلے کے الزام میں پکڑا گیاہے۔ ونونو کو 1986 میں اسرائیلی جوہری پروگرام کے بارے میں معلومات افشا کرنے پر بغاوت کے الزام کے تحت جیل بھیج دیا گیا تھا۔ اپریل میں رہائی کے بعد ان پر سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں جن میں اخباروں کو کسی قسم کے انٹرویو پر پابندی بھی شامل تھی۔ موردیہائی ونونو نے رہائی کے بعد کسی قسم کی خفیہ معلومات کی فراہمی سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس موجود معلومات اب بیس سال پرانی ہو چکی ہیں۔ ونونو مبینہ طور پر اخبار نویسوں سے ملاقات کرتے رہے ہیں اور دو ہفتے پہلے انہوں نے بی بی سی ٹی وی کو ایک انٹرویو بھی دیا ہے۔ یروشلم چرچ کے پادری نے بتایا کہ ونونو کو گرفتار کرنے کےلیے30 سے 50 مسلح افراد نے چھاپہ مارا۔ ونونو اپنی رہائی کے بعد سے اسی چرچ میں رہ ہے تھے۔ پادری نے یہ بھی بتایا کہ پولیس نے ونونو کے کمرے کی تلاشی لی اور ان کا کیمرہ ، کمپیوٹر ، موبائل فون اور کتابیں بھی قبضے میں لے لیں۔ یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ یاسر عرفات کی وفات کے دن ونونو کی گرفتاری شاید میڈیا کوریج سے بچنے کے لیے کی گئی۔ ونونو نے 1986 میں ایک برطانوی اخبار کو اسرائیلی جوہری پروگرام کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں۔ اسرائیل کے مسلسل انکار کے باوجود اسے چھٹی بڑی نیوکلیائی طاقت سمجھا جاتا ہے۔ موردیہائی ونونو کو اسرائیلی سیکرٹ سروس نے اٹلی کے شہر روم سے گرفتار کیا تھا۔ اپنی رہائی کے بعد ونونو نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہوں نے یہ قدم ایک جوہری تباہی کو روکنے کے لیے اٹھایا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||