کوئی ندامت نہیں: ونونو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی جیل سے اٹھارہ سال بعد رہائی پانے والے مورڈیچائی ونونو جب جیل سے باہر آئے تو انہیں دیکھنے کے لئے لوگوں کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔ بعض لوگوں نے ان پر لعن طعن کیا جبکہ بہت سے لوگوں نے انہیں سراہا۔ ونونو نے انیس سو چھیاسی میں برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کو ایک انٹرویو دیا تھا جس کی روشنی میں تجزیہ کاروں نے اندازہ لگایا تھا کہ اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔ اس کے بعد انہیں اغوا کر لیا گیا تھا۔ بعد میں اسرائیل میں انہیں خفیہ معلومات ظاہر کرنے کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔ ان کے حامیوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ونونو کو ’امن کا پیامبر‘ قرار دیا گیا تھا۔ ونونو نے کہا کہ وہ اپنے کیے پر نادم نہیں بلکہ انہیں فخر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان سے بہت ظالمانہ اور بربریت آمیز سلوک کیا گیا۔ انہوں نے کہا: ’اسرائیل کو جوہری ہتھیاروں کی ضرورت نہیں۔ میرا پیغام یہ ہے کہ اپنی جوہری تنصیبات معائنہ کے لئے کھول دیں۔‘ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی کلّی طور پر آزاد نہیں ہیں کیونکہ حکومت نے ان پر کئی پابندیاں عائد کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک سے باہر سفر نہیں کر سکتے۔ انہیں پاسپورٹ نہیں ملے گا، بندگارہوں اور ہوائی اڈوں کے قریب نہیں جا سکیں گے اور بغیر اجازت کسی غیرملکی سے بھی بات نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ امریکہ جاکر شادی کرنا چاہتے ہیں اور ایک نئی زندگی شروع کرنا چاہتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||