کوئی پچھتاوا نہیں: وعنونو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل میں جوہری رازوں کو افشا کرنے کے جرم میں اٹھارہ سال قید کاٹنے والے جوہری ٹیکنیشن موردخائی وعنونو نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے وہ یہ سمجھیں کہ وہ غدار ہیں۔ وعنونو نے رہائی کے بعد بی بی سی کو اپنا پہلا انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’مجھے کوئی پشیمانی نہیں ہے، حالانکہ میں نے اس کی بہت بڑی قیمت چکائی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل چھوڑ کر امریکہ یا یورپ میں نئی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ وعنونو کو اسرائیل میں اکثریت ایک غدار سمجھتی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوئی دھوکہ نہیں دیا تھا بلکہ معلومات فراہم کی تھیں۔ ’میں نے دنیا کو بتایا تھا کہ خفیہ طور پر کیا ہو رہا ہے۔ میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ اسرائیل کو تباہ کر دو، یا ہمیں ڈیمونا (جوہری پلانٹ) کو تباہ کر دینا چاہیئے۔ میں نے کہا کہ دیکھو ان کے پاس کیا ہے اور خود ہی فیصلہ کرو۔‘ 50 سالہ وعنونو کے حمایتی انہیں امن کا ہیرو سمجھتے ہیں۔ ان کی رہائی کی شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ اسرائیل چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتے، غیر ملکیوں کو نہیں مل سکتے، اور ڈیمونا جوہری پلانٹ کے متعلق خفیہ راز افشا نہیں کر سکتے۔ بی بی سی کے پروگرام ’دس ورلڈ‘ کے لئے ان کا انٹرویو ایک اسرائیلی صحافی نے کیا۔
اسرائیل کے نائب وزیرِ اعظم جوزف لیپِڈ نے ان کی مشروط شرائط پر رہائی کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے خیال میں وعنونو کے پاس ابھی بھی راز ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ وہ انہیں دوبارہ بیچتے پھریں‘۔ انہوں نے کہا ’ہمارے خیال میں کئی ایسی چیزیں ہیں جو ابھی انہوں نے ہمیں نہیں بتائیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اایسا کریں۔ وہ اس ملک کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں، وہ اس ملک سے نفرت کرتے ہیں‘۔ برطانوی صحافی پیٹر ہونام کو، جنہوں نے 1986 میں وعنونو کے انٹرویو کے ساتھ اسرائیل کے خفیہ جوہری رازوں کو سنڈے ٹائمز میں چھپنے والے مضمون میں افشا کیا تھا، اس ہفتے کے آغاز میں تل ابیب میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ انہیں بعد میں ایک دن قید حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔ وعنونو کو 1986 میں اٹلی سے اغوا کر کے اسرائیل لایا گیا تھا تاکہ ان پر مقدمہ چلایا جا سکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||