BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 January, 2005, 17:48 GMT 22:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلسطینی اراضی پر قبضے کا قانون
غزہ
ایریئل شیرون کی حکومت نے گزشتہ جولائی میں مشرقی یروشلم میں یہ متنازعہ قانون لاگو کرنے کا فیصلہ کیا تھا
اسرائیل اراضی سے متعلق ایک قانون کے لاگو کرنے پر دوبارہ غور کررہا ہے جس کے تحت ہزاروں ایکڑ فلسطینی اراضی اسرائیل کے قبضے میں آسکتی ہے۔

اسرائیل کے ایک مقامی روز نامے کے مطابق امریکہ کو تشویش ہے کہ اسرائیل 1950 کے ایک قانون کو استعمال کرتے ہوئے فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ کرسکتا ہے۔

اس قانون پر فی الوقت غور کیا جارہا ہے اور اس کے نتائج امریکی اور اسرائیلی حکام کی ایک ملاقات میں بتائے جائیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اور امریکہ میں ایک اسرائیلی وفد کی اس ملاقات کا مقصد اگلے ہفتے کونڈولیزا رائس کے اسرائیل کے دورے کی تیاری ہے۔

ایریئل شیرون کی حکومت نے گزشتہ جولائی میں مشرقی یروشلم میں یہ متنازعہ قانون لاگو کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

بنیادی طور پر یہ قانون اس لیے بنایا گیا تھا تاکہ 1948 میں اپنی زمین چھوڑ کر جانے والے فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ کیا جاسکے۔

اسرائیل نےسب سے پہلے بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کیا اور پھر فصیل تعمیر کرکے ان کی واپسی کو ناممکن بنا دیا۔ اب جب وہ طویل عرصے تک وہاں نہیں جاسکیں گے تو اسرائیل اس قانون کے نفاذ کے بعد یہ زمین مستقل طور پر اپنے قبضے میں کرلے گا۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعے اسرائیل ان کی زمین پر ناجائز قبضے کا جواز پیش کرنا چاہتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد