مشرق وسطٰی، توقعات اور خدشات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بش انتظامیہ کا مشرق وسطٰی کے تنازع میں ایک مرتبہ پھر دلچسپی لینا اور مصر میں اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں کی بات چیت ظاہر کرتی ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے ماحول کچھ سازگار بنتا جارہا ہے۔ لیکن ابھی یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ مسئلے کے حتمی حل کا وقت قریب ہے۔ یہ وقت ان لمحات میں سے ایک ہے جب اس معاملے کے حل کے لیے لوگ پر امید ہوجاتے ہیں۔ لیکن یہ امید حقیقت کا روپ دھارنے سے قبل پہلے بھی کئی مرتبہ ٹوٹ چکی ہے۔ نئی فلسطینی انتظامیہ پرتشدد کارروائیاں روکنا چاہتی ہے۔ اس کا موقف ہے کہ امن کے نقشہ راہ پر عمل پیرا ہونے کے لیے فائر بندی نہایت ضروری ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم ایریئل شیرون اس مرحلے پر نقشہ راہ کے بارے میں مذاکرات نہیں کرنا چاہتے بلکہ اس سے پہلے وہ غزہ سے فوجوں کی واپسی کے اپنے منصوبے پر عملدرآمد چاہتے ہیں۔ ان حالات میں یہ کہنا مشکل ہے کہ مسئلے کا حل مستقبل قریب میں ممکن ہوسکتا ہے۔ مصر میں فلسطینی اور اسرائیلی رہنماؤں کی ملاقات پیش رفت کو ظاہر کرتی ہے کیونکہ اس سے قبل اسرائیلی رہنما سابق فلسطینی رہنما یاسر عرفات سے ملاقات کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ نقشہ راہ پر بات چیت شروع ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ پہلے محمود عباس کی جانب سے تشدد روکنے کی سو فیصد کوشش ہو جس کے بعد مذاکرات شروع کیے جاسکتے ہیں۔ تاہم نقشہ راہ پر بات چیت شروع ہونے سے ماضی کے تمام تنازعات بھی سامنےآئیں گے مثلاً اسرائیلی اور فلسطینی ریاستوں کی سرحدیں، یہودی بستیوں کا مستقبل اور فلسطینی پناہ گزین وغیرہ۔ اگر فریقین اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہے تو مسئلہ کا حل ممکن نہیں۔ لیکن ایک راہ یہ نظر آتی ہے کہ ایسی فلسطینی ریاست کے قیام کا اعلان کردیا جائے جس کی سرحدیں عبوری ہوں۔ لیکن اس کے لیے بھی دونوں فریقین کو کئی سمجھوتے کرنے ہوں گے۔ اس وقت اس معاملے پر بہت محتاط سفارتکاری ہورہی ہے۔ اس لیے امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کے اسرائیلی دورے کے مقاصد محدود تھے۔ انہوں نے یہ واضح کردیا کہ ابھی توقعات زیادہ نہ بڑھائی جائیں اور یہ کہ مسئلے کے حتمی حل کے لیے بالآخر دونوں فریقین کو ہی اہم فیصلے کرنے ہوں گے۔ امریکہ کے نزدیک مشرق وسطٰی کے تنازع کے حل کا مطلب ہے کہ فلسطین کی جانب سے پر تشدد کارروائیوں کا خاتمہ اور اسرائیل کی جانب سے یہ یقینی بنانا کہ وہ اپنے طور پر اس معاملے میں کوئی یکطرفہ اقدام نہیں کرے گا۔ امریکہ نے ایک فوجی افسر جنرل ولیم کو مشرق وسطٰی کے لیے سکیورٹی کوآرڈینیٹر مقرر کیا ہے جو اصلاحات کے عمل پر نظر رکھے گا۔ اس لیے فی الوقت مذاکرات سکیورٹی بڑھانے سے متعلق ہیں، مسئلے کے حتمی حل کے بارے میں نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||