BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 April, 2004, 15:22 GMT 20:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلیئر پھر حامی بھر آئے

بش بلیئر
ملاقات کے بعد ایسا کوئی تاثر نہیں ملا کہ بش اور بلیئر میں کسی بھی مسئلے پر کسی قسم کا اختلاف ہے
صدر بش اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی ملاقات جو جمعرات کے روز وائٹ ہاؤس میں ہوئی خاصی کامیاب رہی اور دونوں رہنماؤں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ عراق سے متعلق اپنی پالیسی پر انتہائی ثابت قدمی سے قائم ہیں اور رہیں گے۔

تیس جون کو سابقہ پروگرام کے مطابق اقتدار ایک آزاد اور خودمختار حکومت کو منتقل کردیا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ یہ حکومت اقتدار میں رہے اور اطمینان اور آرام سے کام کرے اتحادی افواج وہاں بدستور رہیں گی۔

دونوں رہنماؤں کے موقف میں، بلکہ یوں کہئے کہ دونوں کے رویئے میں ایک ذرا سی تبدیلی یہ آئی ہے کہ وہ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایک نئی قرارداد بھی منظور کرائیں گے اور انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ اس حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی جناب لخدر براھیمی جو کوششیں کر رہے ہیں اس کی وہ حمایت کرتے ہیں۔

بعض حلقوں کا خیال تھا کہ برطانیہ کی حکومت اور صدر بش کے درمیان عراق سے متعلق مسائل پر کچھ اختلافات پیدا ہو گئے ہیں اور وزیراعظم ٹونی بلیئر اپنی ملاقات میں اپنے ان اختلافات کا اظہار بھی کریں گے لیکن ملاقات کے بعد اخباری کانفرنس سے انہوں نے جو خطاب کیا اس سے ایسا کوئی تاثر نہیں ملا کہ دونوں میں کسی بھی مسئلے پر کسی قسم کا کوئی بھی اختلاف ہے۔

لخدر براہیمی
لخدر براہیمی کے منصوبے کو امریکی حلقوں میں کافی پذیرائی مل رہی ہے
جناب بلیئر میں یہ بڑی خوبی ہے کہ امریکی صدارت کی کرسی پر کوئی بھی براجمان ہو، بش ہوں یا کلنٹن ، وہ اس سے وہ بگاڑتے نہیں ہیں چاہے اس کے لئے انہیں اپنی پارٹی اور برطانوی عوام کی ہی ناراضگی کیوں نہ مول لینی پڑے۔

ادھر صدر بش کا عالم یہ ہے کہ وہ جو کچھ کرنا ہوتا ہے وہ کر لیتے ہیں اور بعد میں پھر دوستوں اور مشیروں کو ہدایت فرماتے ہیں کہ میں نے یہ کردیا ہے اب آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔ اگر آپ تعاون پر تیار ہیں تو آپ دوست ہیں اور اگر آپ کو اختلاف ہے تو اٹھائیے اپنا تان توبڑا اور تشریف لے جائیے۔

افغانستان کو ہی لے لیجئے ، بس انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ اس کے خلاف کاروائی کرنی ہے اور صدر پرویز مشرف کو، جو ان کے بڑے دوست ہیں، ٹیلی فون پر اطلاع دیدی کہ میں نے فیصلہ کرلیا ہے آپ تعاون کرتے ہیں تو دوست اور نہیں کرتے ہیں تو دشمن۔

اب پرویز مشرف صاحب سیدھے سادھے فوجی اور چالاک بھی ہوتے تو کتنی چالاکی کرلیتے، سارے اختیارات بھی ان ہی کی ذات میں مرکوز تھے۔ یہ بہانا بنانے کی بھی گنجائش نہیں تھی کہ جناب میں پارلیمنٹ یا اپنی حکومت سے مشورہ کرنے کے بعد کوئی فیصلہ کروں گا، فوراً ہامی بھر لی ۔ اس کا خمیازہ یہ بھگتنا پڑرہا ہے کہ افغانستان میں تو حالات کیا ٹھیک ہوتے پاکستان کے قبائلی علاقے میں بھی بگڑ گئے اور مزید بگڑتے نظر آرہے ہیں۔

شیرون
اسرائیلی وزیر اعظم شیرون کے متنازعہ منصوبے کی امریکی حمایت نے پوری عرب دنیا کو حیرت میں ڈال دیا
انہوں نے عراق میں بھی یہی کیا کہ پہلے تو یہ کہا کہ حملے سے پہلے سلامتی کونسل سے قرارداد منظور کرائیں گے اور پھر اچانک یہ فیصلہ کر بیٹھے کہ جی سلامتی کونسل جائے جہنم میں ہم تو حملہ کریں گے مجبوراً اپنے بلیئر صاحب کو بھی ان کی ہاں میں ہاں ملانی پڑی اور اب نتیجہ یہ ہے کہ صدام کی قہار فوج کو شکست دینے میں تو چند ہفتے ہی لگے تھے عراق کے مزاحمتی گروپوں پر ایک سال بعد بھی قابو نہیں پایا جاسکا۔

اسی طرح مشرق وسطی کا مسئلہ ہے کہ صدر بش نے خود ہی نقشہ راہ بنایا اور خود ہی اس کی نفی کردی یعنی ایریئل شیرون صاحب کو بھی امید نہیں تھی کہ وہ جو منصوبہ لے کر جارہے ہیں وہ من وعن تسلیم کرلیا جائے گا لیکن جناب بش نے یہ بھی سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی خود ان کے مشیروں اور قریبی دوستوں پر اس کا کیا اثر پڑے گا ۔

عام خیال یہ تھا کہ جناب بلیئر کم از کم اس کے بارے میں، دبی زبان میں ہی صحیح ، اتنا تو کہیں گے ’جناب صدر آپ نے تو کہیں کا نہیں چھوڑا‘۔ لیکن اتنا بھی غالباً کہنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ صدر نے جو کہا بس ہامی بھر آئے۔ صرف اتنا کہا کہ ایریئل شیرون کے منصوبے کی حمایت کا مطلب یہ نہیں کہ ہے کہ نقشئہ راہ کو راستے سے ہٹا دیا گیا ہے ۔ اب اس کا کیا مطلب ہے یہ میرا خیال ہے صدر بش اور جناب بلیئر بھی نہیں جانتے ہیں اگر کوئی جانتا ہے تو صرف ایریئل شیرون صاحب جانتے ہیں ۔

بہر حال صدر بش اور وزیراعظم ٹونی بلیئر کی اس ملاقات کے نتیجے میں جو اچھی بات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ بالآخر صدر بش بھی یہ مان گئے کہ انہیں عراق کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی مدد کی ضرورت ہے لیکن سیاسی مسا ئل میں ہوتا یہ ہے کہ اگر آپ اپنی نادانستگی یا ہٹ دھرمی کی وجہ سے کسی مسئلے کا مناسب حل مہیا کرنے میں تاخیر کریں یا تاخیر کا سبب بنیں تو مسئلے کی سنگینی میں اضافہ ہوجاتا ہے اور پھر اس کا علاج بھی اس دوا سے نہیں ہو سکتا جو ابتداء میں تجویز کی گئی تھی یا تو دوا بدلنی پڑتی ہے یا پھر اس کی خوراک میں اضافہ کرنا پڑتا ہے۔

میرا خیال ہے اب جو صدر بش اقوام متحدہ کو عراق کے معاملے میں ایک کردار دینا چاہتے ہیں تو اتنے سے شاید کام نہ چلے جتنا کہ وہ شروع میں طلب کر رہی تھی ۔

اب اس سے بہت زیادہ دینا ہوگا اس لئے کہ اب وہ اقوام متحدہ کے سامنے ضرورت مند کے طور پر جارہے ہیں، اب شاید ان سے یہ مطالبہ بھی کیا جائے کہ عراق میں جو فوج ہوگی وہ اقوام متحدہ کی کمان میں ہوگی اور اگر انہوں نے اس میں بھی لیت ولعل کیا تو پھر اور بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی اس لئے میری طرح ان کے ہر بہی خواہ کا مشورہ یہی ہوگا کہ جتنی جلدی ممکن ہو عراق سے اپنی جان چھڑائیں اس لئے کہ عراق کی تاریخ یہ رہی ہے کہ یہاں لوگ جاتے تو بڑے شوق سے ہیں لیکن واپسی بڑی مشکل سے ہوتی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد