رملہ میں تدفین کی اجازت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطین سے ایک سینیئر مذہبی عالم پیرس کے اس ہسپتال پہنچ گئے ہیں جہاں فلسطینی رہنما یاسر عرفات کومہ کی حالت میں موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ منگل کے روز فرانس کے ایک فوجی ہسپتال میں داخل فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے دماغ کی شریان پھٹ گئی تھی اور بعض فلسطینی ذرائع کے مطابق اب ان کے ہوش میں آنے کا امکان کم ہی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی حکومت نےرملہ میں یاسر عرفات کی تدفین کی اجازت دے دی ہے جہاں فلسطینی اتھارٹی کا صدر دفتر ہے۔ مصر پہلے ہی یہ پیشکش کر چکا ہے کہ یاسر عرفات کی آخری رسومات قاہراہ میں کی جاسکتی ہیں۔ دوسری جانب سینیئر فلسطینی رہنماؤں کا وفد یاسر عرفات کی حالت دیکھنے کے بعد پیرس سے واپس فلسطین جا رہا ہے۔ انہوں نے تصدیق کر لی ہے کہ یاسر عرفات کی حالت مسلسل بگڑ رہی ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیرخارجہ کولن پاؤل نے تصدیق کی کہ صدر بش نے یاسر عرفات کے ممکنہ جانشینوں کو بتا دیا ہے کہ امریکہ یاسر عرفات کی موت کے بعد مناسب وقت آنے پر ان کے ساتھ معاملات کرنے کو تیار ہوگا۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق امریکہ یہ بات نہیں ظاہر کرنا چاہتا کہ وہ یاسر عرفات کی جانشینی کے عمل میں دخل دے رہا ہے۔ امریکی وزیرخارجہ کولن پاؤل نے کہا ہے کہ امریکہ یاسر عرفات کی وفات سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد مشرق وسطٰی میں امن کی کوششوں کو پھر سے شروع کیا جاسکے۔ ان کا کہنا ہے کہ قیادت کی تبدیلی سے امن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||