عرفات کی جانشینی، مذاکرات کا آغاز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی وزیرِاعظم احمد قریع نے غزہ میں جماعتی رہنماؤں سے مذاکرات شروع کر دیے ہیں یہ بات ابھی واضح نہیں ہوئی ہے کہ یاسر عرفات کی وفات کی صورت میں ان کا جانشین کون ہو گا۔ احمد قریع حماس اور اسلامی جہاد سمیت کئی گروہوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ اس وقت جب کہ یاسر عرفات زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں ، وزیرِاعظم احمد قریع قومی اتحاد کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں۔ یاسر عرفات کی غیر موجودگی میں فلسطینی حکام اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی یہ پہلی ملاقات ہے۔ غزہ سے بی بی سی کے نمائندے کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد اس مشکل وقت میں اتحاد اور سکون کا قائم رکھنا ہے۔ مذاکرات سے پہلے شدت پسند گروہ اسلامی جہاد کے ترجمان نے فلسطینی عوام پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد کریں۔ بی بی سی کے نمائندہ کے مطابق حماس اور اسلامی جہاد یہ چاہتے ہیں کہ مستقبل کے بارے میں ہونے والے فیصلوں میں انہیں بھی شامل کیا جائے۔ فلسطینی وزیرِخارجہ نبیل شاتھ کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات اس عمل کا حصہ ہیں جس کے تحت ایک متفقہ قومی حکومت کے قیام کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یاسر عرفات کی حالت ابھی تک تشویشناک بتائی جاتی ہے ۔ فلسطینی وزیرِاعظم احمد قریع کو یاسر عرفات کے کچھ اختیارات سونپ دیے گئے ہیں جس سے وہ فلسطینی اتھارٹی کے موثر سربراہ بن گئے ہیں۔ یاسر عرفات کی جانشینی کی صورتحال واضح نہیں ہے گو کہ پارلیمنٹ کے سپیکر روحی فتوح عبوری طور پر زمامِ اقتدار سنبھالیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||