عرفات سے مذاکرات کے لئے کمیٹی قائم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیر کو فلسطینی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم احمد قریع نے بحران کے خاتمے کے لیے قومی یکجہتی کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے ساتھ مذاکرات کے لیے کابینہ نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ احمد قریع نے کہا کہ یہ کمیٹی یاسر عرفات سے موجودہ بحران حل کرنے اور علاقے میں کشیدگی کم کرنے کے بارے میں بات کرے گی۔ اس کے بعد کمیٹی کے ممبران غزہ جا کر وہاں پائی جانے والی کشیدگی ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔ احمد قریع نے کہا کہ اس عمل کو کوئی سازش یا یاسر عرفات کی رہنمائی کو چیلنج نہ سمجھا جائے بلکہ یہ ان کی منتخب حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کا وعدہ تھا کہ وہ امن و امان بحال کرے گی اور اصلاحات لائے گی۔ اپنے استعفے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں یاسر عرفات کے جواب کے اب بھی منتظر ہیں۔ احمد قریع نے فلسطینیوں سے اپیل کی کہ وہ متحد رہیں کیونکہ اس بحران سے صرف ان کے دشمنوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔ سکیورٹی چیف بحال یاسر عرفات نے برگیڈیر جنرل عبدالرازق مجایدہ کو پچھلے ہفتے سکیورٹی سربراہ کے عہدے سے برطرف کر کے اپنے بھتیجے موسیٰ عرفات کو اس عہدے پر لگانے کا اعلان کیا تھا۔ غزہ میں اس اقدام کے بعد یاسر عرفات پر سخت تنقید کی گئی اور پچھلے دو روز میں غزہ میں کئی جگہ احتجـاج اور جھڑپیں بھی ہوئیں۔ اس کے علاوہ اتوار کو فلسطینی وزیر اعظم احمد قریع نے بھی یاسر عرفات کو اپنا استعفی دے دیا تھا۔ یاسر عرفات نے استعفی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ خیال ہے کہ یاسرعرفات نے جنرل عبدالرازق کو سکیورٹی سربراہ کے عہدے پر بحال کرنے کا فیصلہ سخت دباؤ کے بعد کیا ہے۔ موسیٰ عرفات کی تعیناتی پر فلسطینی رہنما پر کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات کو پھر آواز ملی تھی - تاہم سینئیر فلسطینی اہلکاروں نے بتایا ہے کہ موسی عرفات ایک اہم عہدے پر قائم رہیں گے۔ جنرل عبد الرازق تمام سکیورٹی اداروں کے سربراہ ہونگے جبکہ غرب اردن کے سکیورٹی انچارج اسمعیل جبار ہونگے اور غزہ کے انچارج یاسر عرفات کے بھتیجے ہونگے۔ یاسر عرفات اور فلسطینی وزیر اعظم پر اس بات پر اختلافات رہے ہیں کہ علاقے کی سکیورٹی کس کے تحت ہونی چاہیے۔ یاسر عرفات اس پر اپنا کنٹرول چھوڑنا نہیں چاہتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||