BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یاسر عرفات: قومی وحدت کے امین

News image
یاسر عرفات آج کل پیرس میں موت و حیات کی کشمکش میں ہیں
فلسطینی رہنما یاسر عرفات فرانس کے دارالحکومت پیرس کے قریب ایک فوجی ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں اور ان کے قریبی ذریعوں اور ان کے ساتھی فلسطینی رہنماؤں کی جانب سے جو تازہ ترین بیانات آئے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کشمکش موت کے حق میں منتج ہوسکتی ہے۔

اس سلسلے میں جناب عرفات کے چاہنے والوں کواسرائیلی وزیراعظم جناب ایریئل شیرون کا مشکور ہونا چاہیئے کہ انہوں نے جناب عرفات کو علاج کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی۔نہ صرف یہ بلکہ دوبارہ وطن واپس آنے کی بھی اجازت دی۔ اتنی فراخدلی کا مظاہرہ قابض قومیں مفتوح اقوام کے رہنماؤں کے ساتھ بہت کم کرتی ہیں۔

تاریخ میں غالباً سکندر اعظم کے بعد جناب ایریئل شیرون دوسرے آدمی ہیں جنہوں نے اس وسیع القلبی کا مظاہرہ کیا ہے۔

فرق صرف یہ ہے کہ سکندراعظم نے راجہ پورس کوتمام مفتوحہ علاقے بھی واپس کردیئے تھے جبکہ ایریئل شیرون نے یاسر عرفات کو صرف واپس ہی آنے کی اجازت دینے پر اکتفا کیا ہے اور یہ بھی واضح نہیں کہ صرف زندہ واپس آنے کی اجازت دی ہے یا مردہ حالت میں بھی وہ قابل قبول ہوں گے۔

اس لیے کہ مرنے کے بعد تو وہ اور خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ بالخصوص اپنی اس وصیت کی روشنی میں کہ ’انہیں مرنے کے بعد بیت المقدس میں دفن کیا جائے۔‘

آنجہانی پنڈت جواہرلعل نہرو نےغالباً کانگو کی جنگ آزادی کے رہنما پیٹریس لوممبا کے بہیمانہ قتل پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’شہید لوممبا زندہ لوممبا سے زیادہ طاقتور ہے۔‘

میں اس طرح کے اقوال میں تو یقین نہیں رکھتا لیکن یاسر عرفات کے بارے میں مجھے بھی خیال ہوتا ہے کہ اگر مر گئے تو ان پر یہ قول صادق آسکتا ہے۔

ان کے چاہنے والوں کو مصر اور اردن کا بھی مشکور ہونا چاہئیے کہ جب ان کی طبیعت خراب ہوئی تو انہوں نے ان کے طبی معائنے کے لئےاپنے ڈاکٹر بھیجے ورنہ آج کل بھائی بھائی کو نہیں پوچھتا۔ یاسرعرفات تو پھر ایک مفتوح قوم کے رہنما تھے جو دسمبر 2001 سے اپنےرملہ کے ہیڈکوارٹر میں محصور تھے۔ ان کی یہ نظربندی ختم کرانے کی تو کسی میں ہمت نہیں ہوئی لیکن اس آڑے وقت میں بہر حال عرب خون جوش میں آہی گیا۔

فلسطینیوں کو امریکی انتظامیہ کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہئیے کہ اس نے بھی ان کے باہر جانے میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔ اور میں فلسطینی انتظامیہ کی ذہانت کی بھی داد دیتا ہوں جنہوں نے کمال عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے علاج کی خاطر انہیں باہر لے جانے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع نہیں کیا۔ اگر وہ ایسا کرتے تو امریکہ کو ضرورتاً نہیں تو عادتاً اس کے خلاف اپنا ویٹو استعمال کرنا پڑتا۔

میں نہیں جانتا کہ یاسر عرفات کیسے آدمی تھے لیکن اس موقع پر مجھے ٹیگور کی ایک نظم یاد آرہی ہے جس کا ترجمہ کچھ یوں تھا:

’اگر موت نے تمہارے دروازے پر دستک دی تو تم اس کو کیا پیش کروگے ؟‘
’میں اسے اپنی زندگی کا پورا پیالہ پیش کردوں گا‘
’میں اپنے مہمان کو خالی ہاتھ نہیں جانے دوں گا‘
’اس پیالے میں اپنی زندگی کے موسم گرما کی راتوں اور خزاں کی صبحوں میں
کشید کی گئی شراب کی تمام مٹھاس اسے سونپ دوں گا‘
’اور اپنی زندگی کی تمام خوشیاں اور محرومیاں میں اس کی نذر کردوں گا‘

یاسر عرفات کے دروازے پر بھی موت کھٹ کھٹا رہی ہے اور ان کے پاس بھی اس کو دینے کے لئے بہت کچھ ہے۔ ان کی مصروف زندگی کا پیالہ بھی ایسے بہت سے واقعات سے بھرا ہوا ہے جنمیں محرومیوں کی تلخی اور کا میابیوں کی مٹھاس موجود ہے۔

ان کی سب سے بڑی محرومی تو شاید یہ ہو کہ وہ اپنے وطن کی آزادی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے لیکن کامیابیوں کی فہرست خاصی طویل ہے۔ مثلاً انہوں نے جب سے فلسطینیوں کی قیادت سنبھالی ان میں خود اعتمادی بڑھی ہے چنانچہ 1959 میں الفتح کے قیام کے بعد سے، جس کے وہ بانی رہنما ہیں، فلسطینیوں کے اندر اپنے مسائل سے خود نمٹنے کا احساس پیدا ہوا اور انہوں نے ’برادر‘ اسلامی اور عرب ملکوں پر انحصار کرنا بڑی حد تک چھوڑ دیا ہے۔

یہ بھی انہیں کا کمال ہے کہ انہوں نے اس مسئلے کو اب تک زندہ رکھا ہوا ہے، نہ صرف یہ ، بلکہ اقوام متحدہ سمیت مختلف عالمی اداروں میں فلسطین کی تنظیم آزادی کی نمائندگی بھی موجود ہے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ جناب عرفات کا رویہ الفتح اورفلسطین کی تنظیم آزادی میں تحکمانہ بلکہ آمرانہ ہے ، ممکن ہے ہو، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بعض فلسطینی تنظیمیں ان سے شدید اختلاف رکھنے کے باوجود ان کے ساتھ فلسطین کی تنظیم آزادی میں ایک فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

یاسر عرفات کا دوسرا کمال میری نظر میں یہ ہے کہ انہوں نے فلسطین کی قومی وحدت کی بڑی بےلوثی سے حفاظت کی ہے اور اس کے باوجود کہ فلسطین میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور اسرائیل فلسطینیوں میں مذہبی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش بھی کرتا رہا ہے لیکن جناب عرفات نےان سازشوں کو ناکام بنادیا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد سامراجی تسلط کے خلاف آزادی کی بہت سی تحریکیں مذہبی اور علاقائی اختلافات کی بنا پر ناکام ہوگئیں اور اگر کامیاب بھی ہو ئیں تو بعد میں ان عصبیتوں کا شکار ہوگئیں اور آج تک اس کی سزا بھگت رہی ہیں۔

یاسر عرفات نے ایسی ہر کوشش کو ناکام بنادیا ہے اور یہی ایک بات ہے کہ ساری عمر کی دربدری اور گزشتہ تین سال رملہ میں فلسطینی انتظامیہ کے ہیڈ کوارٹر کے احاطے میں محصور رہنے کے باوجود اب بھی اسرائیل کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں اور اگر مربھی گئے تو بہت دنوں تک کھٹکتے رہیں گے۔

اور میرے خیال میں اگر فلسطینی ان کی خدمات کا اعتراف کرنا چاہتے ہیں تو اس کی ایک ہی شکل ہے اور وہ یہ کہ وہ اپنی قومی وحدت اور تشخص کو برقراررکھیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد