فلسطینی رہنما پیرس پہنچ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیرس کے فوجی اسپتال میں زیر علاج یاسر عرفات کے بارے میں صحیح صورت حال معلوم کرنے کے لیے تین سینیئر فلسطینی عہدے دار پیرس پہنچ چکے ہیں۔ فلسطینی رہنما اپنے قائد یاسر عرفات کی عیادت کرنے سے پہلے فرانسیسی حکام سے ’سیاسی مذاکارات‘ کریں گے۔ وہ اس سلسلے میں پہلے فرانس کے وزیر خارجہ مشل باغنیئے اور بعد میں صدر ژاک شیراک سے ملیں گے۔ وزیر اعظم احمد قریع، نائب صدر محمود عباس اور وزیر خارجہ نبیل شعت نے یاسر عرفات کی اہلیہ سوہا کے اس بیان کے بعد اپنا دورہ ملتوی کردیا تھا کہ فلسطینی سیاست داں یاسر عرفات کے خلاف سازش کررہے ہیں اوران کا وراث بننے کے لیے انہیں زندہ دفن کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ایک فلسطینی عہدے دار کا کہنا ہے کہ سوہا عرفات کو فلسطینیوں کی ترجمانی کا کوئی حق نہیں ہے اور ہمارا قائد اپنی اہلیہ کی ذاتی ملکیت نہیں ہیں۔ فرانس کے وزیر خارجہ مشل باغنیئے نے کہا ہے کہ یہ ایک قدرتی امر ہے کہ فلسطینی قیادت یاسر عرفات سے ملنے کی اجازت دی جائے۔ ہسپتال کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ یاسر عرفات کی حالت کے پیش نظر ان سے ملاقات کے اوقات کو محدود کر دیا گیا ہے۔ وہ انتہائی نگہداشت کے شعبے میں ہیں لیکن ان کی کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ تین اعلیٰ فلسطینی رہنماؤں پر مشتمل یہ وفد غرب اردن کے شہر رملہ سے کار کے ذریعے اردن اور اردن سے ایک نجی جیٹ طیارے کے ذریعے پیرس پہنچا ہے۔ مسٹر قریع نے سوہا عرفات کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں الجزیرہ ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے سوہا عرفات کے اس جـذباتی بیان پر افسوس ہوا ہے جو انہوں نے ایک ٹیلی فون کال کے ذریعے دیا ہے۔ سوہا عرفات سے معافی کا مطالبہ راوہی فتوح نے کیا ہے جو فلسطینی اسمبلی کے سپیکر ہیں۔ فتوح نے الجزیرہ ٹیلیویژن ہی کو دیئے جانے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ سوہا عرفات کو بیان پر فلسطینی عوام سے معافی مانگنا چاہیے کیونکہ انہوں نے رہنماؤں کے خلاف انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے ہیں۔ فلسطینی اسمبلی کے نائب سپیکر صفان ابو زائیدہ نے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں کہ عرفات اپنی اہلیہ کی نجی ملکیت نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’فلسطینی عوام انہیں نہیں جانتے‘ اسرائیلی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ’یہ وہ عورت ہے جس نے انتفادہ کے ان تین سالوں کے دوران اپنے شوہر کو دیکھا تک نہیں‘۔ بتایا جاتا ہے کہ یاسر عرفات تک صرف چند ہی لوگوں کو رسائی حاصل ہے اور ان میں سوہا عرفات بھی شامل ہیں جو پیرس ہی میں رہتی ہیں۔ پیرس آنے والی فلسطینی رہنماؤں نے چلتے ہوئے رملہ میں کہا تھا کہ ’ہم صدر عرفات کی صحت کے بارے میں ڈاکٹروں سے براہ راست معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||