BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 November, 2004, 06:59 GMT 11:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یاسر عرفات کے حالات زندگی
News image
یاسر عرفات جنہوں نے گزشتہ پچاس سال سے فلسطین کی آزادی کے لیے جدوجہد کی، نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز بقول ان کے جہادی کی حثیت سے کیاتھا جسے مغربی زبان میں چھاپہ مار کہا جاتا ہے۔

چالیس سال سے زیادہ جلا وطنی کے بعد 1994 میں وہ واپس فلسطین گئے۔ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ ایک امن سمجھوتہ کیاجس کے تحت فلسطین نیشنل اتھارٹی قائم ہوئی۔

یاسر عرفات چوبیس اگست 1929 میں پیدا ہوئے۔ کہاں پیدا ہوئے اس کے بارے میں متضاد دعوے ہیں۔ یاسر عرفات کے مطابق وہ یروشلم میں پیدا ہوئے لیکن کچھ اطلاعات کے مطابق وہ مصر کے شہر کیرو میں پیدا ہوئے۔ یاسر عرفات کے تمام بہن بھائی بھی کیرو میں رہے اور وہیں وفات پائی۔ یاسر عرفات نے کیرو یونیورسٹی سے انجنئیرنگ کی تعلیم حاصل کی۔

انہوں نے اپنی جدوجہد کا آغاز 1956 میں فتح تحریک شروع کر کےکیا۔ جس کے بعد انہوں نے 1966 پی ایل او کی باگ دوڑ سنبھالی۔

یاسر عرفات نے اپنی جوانی فلسطین کی آزادی کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے گزاری اور شادی زندگی کے آخری حصے میں سُھا نامی خاتون سے کی۔

یاسر عرفات کی اکلوتی اولاد ان کی نو سالہ بیٹی ہے جو 1996 میں فرانس میں پیدا ہوئیں ۔ وہ اب بھی اپنی ماں کے ساتھ فرانس میں مقیم ہیں۔

یاسر عرفات نے 1974 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں چھاپہ مارا کی وردی پہنے تاریخی خطاب کیا۔

یاسر عرفات نے اپنی جدوجہد کے دوران کویت، تیونس ، لبنان کے علاوہ کئی ملکوں میں قیام کیا۔

یاسر عرفات نے ساری زندگی خطرات سے کھیلتے ہوئے گزاری اور جب 1982 میں اسرائیل نے بیروت پر حملہ کیا تو اس وقت وہ بیروت میں موجود تھے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے بیروت میں روس کے سفارت خانے میں گھس کی جان بچائی۔

یاسر عرفات پر کئی قاتلانہ حملے ہوئے ۔ اسرائیل نے تیونس میں پی ایل او کے ہیڈکواٹرز پر حملہ کیا ۔ لیکن یاسر عرفات اس حملے میں محفوظ رہے ۔

انہوں نے تیس سال سے زیاد ہ عرصہ تک گوریلا کارروائیوں کے ذریعے فلسطین کو آزاد کرانے میں ناکامی کے بعد مسئلہ فلسطین کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی راغب ہوئے اور 1985 مصر کے شہر کیرو میں اعلان کیا کہ وہ فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کے علاوہ کہیں بھی پر تشدد کارروائی نہیں کریں گے۔

اردن کی حکومت نے 1986 میں امان میں ان کے دفاتر کو بند کر دیا۔ 1988 میں امریکہ نے فلسطینی رہنما کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے سے روکنے کے لیے ان کو امریکہ کا ویزہ دینے سے انکار کر دیا۔بعد میں انہوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔

یاسر عرفات نے 1988 میں امریکی یہودیوں کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں اسرائیل کے وجود کو ماننے کا اعلان کیا۔

نوے کی دہائی میں یاسر عرفات کو امن کے کئی انعامات سے نوازا گیا۔انہیں اسرائیلی وزیر اعظم رابن اور وزیر خارجہ شمعون پیرز کے ساتھ مشترکہ نوبل کا امن انعام دیا گیا۔

جنوبی افریقہ کے رہنما نیلسن منڈیلا نے بھی فلسطینی رہنما کو کیپ ہوپ انعام سے نوازا گیا۔

فلسطینی رہنما نے 1998 میں سہ فریقی کانفرنس میں اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ شرکت کی۔اسی سال انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنییامن نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ ایرئیل شیرون کے اسرائیل کے وزیر اعظم بننے کے بعد فلسطین کے ساتھ مشرق وسطی میں قیام امن کا عمل رک گیا ہے۔

یاسر عرفات نے دو سال رملہ میں محصور کی زندگی گزاری رہے ہیں لیکن وہ وہاں سے جانے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اسرائیل نے رملہ میں ان کے ہیڈکواٹرز پر بھی حملہ کیا اور عمارات کو شدید نقصان پہنچا لیکن یاسر عرفات اپنے صدر دفتر سے باہر جانے کے لیے تیار نہ ہوئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد