فلسطینی قیادت پیرس پہنچ رہی ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی انتظامیہ کے اعلیٰ رہنما یاسر عرفات سے ملاقات کے لیے فرانس کے دارالحکومت پیرس پہنچ رہے ہیں۔ اس سے قبل یاسر عرفات کی بیوی سہا عرفات کے ایک بیان کی وجہ سے انہوں نے دورہ منسوخ کرنے کے بارے سوچا تھا لیکن بعد میں انہوں نے جانے کے حق میں فیصلہ دیا۔ ایک اعلیٰ اہلکار نے سہا عرفات سے کہا ہے کہ وہ اپنے اس بیان کی معافی مانگیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فلسطینی رہنما ’یاسر عرفات کو زندہ دفن کرنا چاہتے ہیں‘۔ فلسطینی رہنما پیرس کے ایک فوجی اسپتال میں گزشتہ کئی دنوں سے زندگی اور موت کے درمیان ہیں۔ ہسپتال کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ یاسر عرفات کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس سے قبل فرانسیسی وزیر خارجہ میشیل بارنیئے نے کہا تھا کہ یاسر عرفات کی صحت مستحکم تاہم پیچیدہ اور سنگین ہے۔ وزیر خارجہ میشیل بارنیئے نے بتایا کہ یاسر عرفات کے نائب محمود عباس، فلسطینی وزیراعظم ابو قریع اور فلسطینی وزیر خارجہ نبیل شعت اس فلسطینی وفد میں شامل ہیں جو پیر کو پیرس پہنچ رہا ہے۔ فلسطینی وزیراعظم احمد قریع نے امن و امان نافذ کرنے کے لیے فلسطینی اہلکاروں سے اتوار کے روز کئی ملاقاتیں کی۔ احمد قریع فلسطینی رہنماؤں سے اس لیے بھی ملاقاتیں کررہے ہیں تاکہ یاسر عرفات کا جانشین منتخب کیا جاسکے۔ احمد قریع نے اسلامی جہاد سمیت کئی فلسطینی گروہوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ وزیراعظم قریع اپنی ملاقاتوں کے دوران قومی اتحاد پر زور دے رہے ہیں۔ اتوار کے روز فلسطینی مذاکرات کار صائب ارکات نے اسرائیلی وزیر دفاع شول مفاظ کے اس بیان پر شدید تنقید کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر یاسر عرفات اپنی بیماری سے نکلنے میں ناکام رہے تو اسرائیل نے ان کی تدفین کے لیے غزہ میں تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ صائب ارکات کا کہنا تھا کہ ایسے موقع پر جب یاسر عرفات زندگی اور موت کے درمیان پیرس کے اسپتال میں ہیں، اسرائیلی وزیر دفاع کا بیان نامناسب تھا۔ بعض ذرائع کے مطابق یاسر عرفات نے خواہش ظاہر کی تھی کہ انہیں یروشلم میں دفن کیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||