BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 October, 2004, 10:39 GMT 15:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یاسر عرفات کون؟
یاسر عرفات
یاسر عرفات نے ساری زندگی خطرات سے کھیلتے ہوئے گزاری
یاسر عرفات نے جو پچاس سال سے آزاد فلسطین کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اپنی سیاسی زندگی کا آغاز گوریلہ جنگ میں حصہ لینے والے ایک جنگجو کی حیثیت سے کیا۔ چالیس سال سے زیادہ جلا وطنی کے بعد وہ 1994 میں واپس فلسطین کے علاقے میں پہنچے تھے جب انہوں نے اسرائیل سے ایک امن سمجھوتا کیا جس کے تحت فلسطین نیشنل اتھارٹی قائم ہوئی۔

یاسر عرفات چوبیس اگست 1929 کو پیدا ہوئے۔ کہاں پیدا ہوئے؟ اس کے بارے میں متضاد دعوے ہیں۔ یاسر عرفات کے مطابق وہ یروشلم میں پیدا ہوئے لیکن کچھ اطلاعات کے مطابق وہ مصر کے شہر قاہرہ میں پیدا ہوئے۔ یاسر عرفات کے تمام بہن بھائی بھی قاہرہ میں رہے اور وہیں وفات پائی۔ یاسر عرفات نے قاہرہ یونیورسٹی سے انجنئیرنگ کی تعلیم حاصل کی۔

یاسر عرفات نے اپنی جدوجہد کا آغاز 1956 میں فتح تحریک شروع کر کے کیا۔ انہوں نے 1966 پی ایل او کی باگ دوڑ سنبھالی۔

یاسر عرفات نے اپنی جوانی فلسطین کی آزادی کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے گزاری اور شادی زندگی کے آخری حصے میں سُھا سے کی۔

یاسر عرفات کی اکلوتی اولاد ان کی نو سالہ بیٹی ہے جو 1996 میں فرانس میں پیدا ہوئیں ۔ وہ اب بھی اپنی ماں کے ساتھ فرانس میں مقیم ہے۔

یاسر عرفات نے 1974 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک گوریلا جنگجو کی وردی پہن کر تاریخی خطاب کیا۔

یاسر عرفات نے اپنی جدوجہد کے دوران کویت، تیونس ، لبنان کے علاوہ کئی ملکوں میں قیام کیا۔

یاسر عرفات نے ساری زندگی خطرات سے کھیلتے ہوئے گزاری اور جب 1982 میں اسرائیل نے بیروت پر حملہ کیا تو اس وقت وہ بیروت میں موجود تھے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے بیروت میں روس کے سفارت خانے میں گھس کی جان بچائی۔

یاسر عرفات پر کئی قاتلانہ حملے ہوئے۔ اسرائیل نے تیونس میں پی ایل او کے ہیڈکواٹرز پر حملہ کیا۔ لیکن یاسر عرفات اس حملے میں محفوظ رہے ۔

یاسر عرفات تیس سال سے زیاد ہ عرصہ تک گوریلا کارروائیوں کے ذریعے فلسطین کو آزاد کرانے میں ناکامی کے بعد مسئلہ فلسطین کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی طرف راغب ہوئے اور 1985 مصر کے شہر قاہرہ میں اعلان کیا کہ وہ فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کے علاوہ کہیں بھی پر تشدد کارروائی نہیں کریں گے۔

اردن کی حکومت نے 1986 میں عمان میں ان کے دفاتر کو بند کر دیا۔ 1988 میں امریکہ نے فلسطینی رہنما کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے سے روکنے کے لیے ان کو امریکہ کا ویزہ دینے سے انکار کر دیا۔بعد میں انہوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔

یاسر عرفات نے 1988 میں امریکی یہودیوں کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں اسرائیل کے وجود کو ماننے کا اعلان کیا۔

نوے کی دہائی میں یاسر عرفات کو امن کے کئی انعامات سے نوازا گیا۔ یاسر عرفات کو اسرائیلی وزیر اعظم رابن اور وزیر خارجہ شمعون پیرز کے ساتھ مشترکہ نوبل کا امن انعام دیا گیا۔

جنوبی افریقہ کے رہنما نیلسن منڈیلا نے بھی فلسطینی رہنما کو کیپ ہوپ انعام سے نوازا۔

فلسطینی رہنما نے 1998 میں سہ فریقی کانفرنس میں شرکت کی جس میں اسرائیل اور امریکہ نے شرکت کی۔اسی سال انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ تاہم ایریئل شیرون کے اسرائیل کے وزیر اعظم بننے کے بعد فلسطین کے ساتھ امن کا عمل رک گیا ہے۔

یاسر عرفات گزشتہ دو سال سے رملہ میں اپنے صدر دفتر میں محصور تھے اور وہاں سے باہر جانے کے لیے تیار نہیں تھے۔اسرائیل نے رملہ میں ان کے ہیڈکواٹرز پر بھی حملہ کیا اور عمارت کو شدید نقصان پہنچایا لیکن یاسر عرفات اسی ہیڈکواٹرز سے باہر جانے کے لیے تیار نہ ہوئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد