عرفات کے بعد کون؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یاسرعرفات اپنے طویل کریئر کے دوران کسی کو اپنے جانشین کے طور پر آگے بڑھانے میں محتاط رہے ہیں۔ دیگر عرب رہنماؤں کی طرح، عرفات بھی اپنے حریفوں سے ہوشیار اور قریبی اہلکاروں سے چوکنا رہنے پر کاربند رہے ہیں۔ جون دو ہزار ایک میں اعلیٰ فلسطینی اہلکار فیصل حسینی کی موت کے بعد یہ تصویر ابھر کر سامنے آنے لگی کہ سینیئر فلسطینی رہنما آہستہ آہستہ منظر سے غائب ہوتے جارہے ہیں۔ اور اب جب مسٹر عرفات پچہتر سال کی عمر کے ایک نحیف انسان ہیں اور شدید خراب ہوگئی ہے، تو یہ قیاس آرائی بجا ہے کہ ان کی جگہ کون لے گا۔ ان کی جگہ لینے والے امیدواروں کو دو صفوں میں رکھا جاسکتا ہے: ایک وہ جو عمررسیدہ ہیں اور عرفات کے ساتھ عرصے سے کام کرتے رہے ہیں، اور دوسرے وہ جو نوجوان ہیں اور حالیہ برسوں میں منظر عام پر آئے ہیں۔
جو عمررسیدہ رہنماؤں کی صف میں ہیں ان کا تعلق فلسطینی لِبریشن آرگنائزیشن یعنی پی ایل او سے رہا ہے، بالخصوص اس دور میں جب یہ تحریک اردن، لبنان اور تیونس میں جلاوطنی کا دور گزار رہی تھی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر یاسر عرفات اعتماد کرتے رہے ہیں لیکن غرب اردن اور غزہ کے فلسطینی عوام انہیں ’اجنبی‘ تصور کرتے ہیں۔ ان میں بعض پر کرپشن کے الزامات ہیں اور عوام انہیں کبھی کبھی ’تیونیسیائی‘ بھی کہتے ہیں۔ ایسے عمررسیدہ رہنماؤں میں حسب ذیل ہیں: ٭ احمد قریع: یہ فلسطینی وزیراعظم ہیں اور ان خفیہ مذاکرات میں حصہ لے چکے ہیں جن کی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ انیس سو ترانوے میں اوسلو معاہدہ طے پایا تھا۔ ٭ محمود عباس: انہیں ابو ماذن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ وہ وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ انہیں اعتدال پسند تصور کیا جاتا ہے اور انہوں نے کئی بار اسرائیل کے ساتھ مذاکرات بھی کیے ہیں۔ ٭ نبیل شعت: یہ ایک سابق بزنس مین ہیں اور فلسطینی انتظامیہ کے وزیر خارجہ ہیں۔ ٭ یاسر عبدہ ربہ: یہ فلسطینی لِبریشن آرگنائزیشن کے ایک سینیئر اہلکار ہیں۔ ان کا تعلق پی ایل او کے بائیں بازو سے رہا ہے۔
دوسری صف میں نوجوان رہنما ہیں۔ اس دور میں جب پی ایل او بیرون ملک تھی یہ نوجوان رہنما مقبوضہ علاقوں میں رہے اور لوگوں کی نمائندگی بھی کی۔ یہ رہنما انیس سو اسی کے عشرے میں پہلی تحریک مزاحمت انتفادہ کے دوران سرخیوں میں آئے۔ ایسے رہنماؤں میں حسب ذیل لوگ ہیں: ٭ محمد دحلان: یہ غزہ کی پٹی میں سکیورٹی کے سابق چیف ہیں۔ ٭ جبریل الرجوب: یہ غرب اردن میں سکیورٹی کے سابق چیف کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ یہ دونوں رہنما یاسر عرفات سے کبھی قریب اور کبھی دور رہے ہیں۔ تاہم اسرائیلیوں سے بات چیت کے دوران ان دونوں رہنماؤں کا کردار اہم رہا ہے۔ انہیں معاملہ فہم سمجھا جاتا ہے۔
ایک اور رہنما جو موجودہ انتفادہ کے دوران منظر عام پر آئے، مروان البرغوثی ہیں جو غرب اردن میں عرفات کی سیاسی تنظیم الفتح کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یاسر عرفات کے بعد وہ سب سے زیادہ مقبول شخصیت ہیں۔ مروان البرغوثی ابھی اسرائیلی جیل میں ہیں۔ انہیں پانچ عمروں کی سزائے قید دی گئی ہیں۔ وہ اسرائیل کے اندر اسرائیلی شہریوں پر حملوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ مروان البرغوثی اوسلو امن معاہدے کے بڑے حامی رہے ہیں۔ لیکن سن دو ہزار میں دوسری انتفادہ کے آغاز سے ان کا نظریہ سخت ہوگیا۔ مروان البرغوثی اب اسرائیلی وزیراعظم ایریئل شیرون کے اس منصوبے کی تائید کرتے ہیں جس کے تحت اسرائیلی فوج اور یہودی آبادکاروں کو غزہ سے واپس ہٹانے کی تجویز ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||