BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 October, 2004, 10:27 GMT 15:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یاسر عرفات: آزاد گوریلے سے محصور رہنما
یاسر عرفات
عرفات ابتداء سے ہی’اپنی تشہیر کے شوقین‘ تھے
یاسر عرفات نے ایک علیحدہ ریاست کے حصول کے لیے فلسطینیوں کی جد و جہد کی کئی دہائیوں تک رہنمائی کی ہے۔ لیکن اختیارات میں اشتراک اور ذمہ داریاں دوسروں کو سونپنے سے انکار کے سبب نہ صرف ان کی صحت بری طرح متاثر ہوئی بلکہ ان کی عوامی حمایت میں بھی کمی آئی۔

یاسر عرفات کی صحت یہ وقت گرنے لگی جب بیس اکتوبر کو ان کے پیٹ میں درد ہونے لگا اور ایک وزیر نے انہیں انتہائی علیل بتایا۔

علالت کے باعث اس سوال سامنے آنے لگا کہ یاسر عرفات کا جانشین کون ہو گا۔

جس وقت اوسلو کی طرف سے آگے بڑھایا جانے والا امن کا عمل خاطر خواہ نتائج حاصل نہ کر سکا تو لوگ یاسر عرفات کے آمرانہ اور اختیارات کو ایک مرکز پر یکجا رکھنے کے طرز حکومت سے اکتانے لگے۔

لیکن اس صورت حال میں دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب اسرائیل نے یاسر عرفات کو تنہا کرنے کی کوشش کی تو ان کی عوامی حمایت میں ایک بار پھر اضافہ ہونے لگا۔

دسمبر سن دو ہزار میں اسرائیلی فوج نے یاسر عرفات کو ان کے رملہ میں قائم خستہ حال صدر دفاتر میں محدود کر کے رکھ دیا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔

یاسر عرفات کے محصور رکھے جانے کو اسرائیلی حکومت کی جانب سے ایک انتہائی سخت اقدام کی بڑی علامت سے تعبیر کیا جانے لگا۔

یاسر عرفات کا اصرار رہا ہے کہ ان کی پیدائش یروشلم میں ہوئی جبکہ ریکارڈ کے مطابق وہ 1929 کو مصر میں پیدا ہوئے۔

سونح حیات لکھنے والے ایک مصنف کا کہنا ہے کہ یاسر عرفات ’اپنی تشہیر کے شوقین‘ اور انتہائی محنتی تھے۔ ان میں عوام کی رہنمائی کرنے اور اپنی مرضی کرنے کی خواہش بھی روز بروز زور پکڑتی جا رہی تھی۔

News image
عرفات اکتوبر میں بیمار پڑ گئے

1959 میں جب کویت میں ملک بدر کی زندگی گزارنے والے فلسطینی الفتح تنظیم تشکیل دے رہے تھے جو بعد فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے سب سے بڑے حصے کی شکل میں سامنے آئی، اس وقت یاسر عرفات محض سطحی طور پر ہی مشترکہ اقتدار کی بات کر رہے تھے۔

لیکن صرف دو برس کے عرصے میں ہی ان کے ہم عصروں پر یہ بات عیاں ہونے لگی کہ یاسر عرفات نے کس طرح نہ صرف الفتح کے عسکری پہلو پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا بلکہ دوسرے لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے۔

اس تمام واقعات سے قطع نظر یاسر عرفات نے فلسطین کے معاملے کو عالمی ایجنڈے میں کسی بھی دوسرے رہنما کے مقابلے میں سب سے زیادہ آگے بڑھایا۔

عرب ریاستیں واضح طور پر فلسطینیوں کی مدد کرنے کو تیار نہ تھیں اس لیے پی ایل او نے یاسر عرفات کے زیر قیادت ہتھیار تھام لیے، ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کیا اور دیگر پُرتشدد کارروائوں کا آغاز کر دیا۔

بحیثیت فوجی سربراہ یاسر عرفات نے متعدد مواقع پر اسرائیل کے خلاف لڑائی میں بھی قیادت کی۔ 1968 میں کرامہ، ستمبر 1970 میں اردن اور 1982 میں بیروت میں گھیرے میں ہونے کے باوجود یاسر عرفات نے اسرائیل کے خلاف بھرپور جرات کا مظاہرہ کیا۔

ان کا ہمیشہ یہی مقصد رہا ہے کہ فلسطین کو آزادی دلائی جائے اور وہ خود فلسطین کے صدر بنیں۔

سُھا عرفات
یاسر عرفات کی اہلیہ سُھا عرفات

فلسطینیوں پر یاسر عرفات کے مکمل کنٹرول کو اس وقت چیلنج کا سامنا ہوا جب پی ایل او کے رکن محمود عباس المعروف ابو ماذن کو فلسطین کا وزیراعظم نامزد کیا گیا۔

فلسطینی انتظامیہ میں داخلی اصلاحات کے لیے ڈالے گئے دباؤ کے نتیجے میں ابو ماذن کو مئی سن دو ہزار تین میں فلسطین کا وزیراعظم مقرر کر دیا گیا۔

فلسطین کے وزیراعظم اور پی ایل او کے سیکریٹری جنرل ہونے کے علاوہ محمود عباس یاسر عرفات کے بعد سب سے زیادہ سینیئر فلسطینی رہنما تھے اور اس حوالے سے ان کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

بش انتظامیہ نے یاسر عرفات پر یہ الزام لگا کر کہ ان کا دامن ’دہشتگردی سے داغدار‘ ہے ابو ماذن کی حمایت کی اور بظاہر یہ بھی دکھائی دینے لگا کہ اسرائیل ابو ماذن سے بات چیت کرنے کو تیار ہے۔

تاہم یاسر عرفات نے ابو ماذن کی بحیثیت وزیراعظم حمایت نہ کی۔ ساتھ ہی فلسطینی صدر کی جانب سے حماس اور اسلامی جہاد جیسی شدت پسند تنظیموں کے خاتمے کے سلسلے میں ابو ماذن کی مکمل حمایت نہ کر پانے کے باعث یاسر عرفات اور ابو ماذن کے درمیان فلسطینی سکیورٹی کے معاملے پر شدید اختلافات پیدا ہو گئے۔

اقتدار کی دوڑ میں یاسر عرفات کو کامیابی حاصل ہوئی اور وہ ابو ماذن کو کمزور کرنے میں کامیاب ہو گئے جس کے بعد فلسطینی وزیراعظم نے ستمبر کے اوائل میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد