یاسر عرفات سخت علیل ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی صحت بہت خراب ہو چکی ہے اور ڈاکٹر رملہ ہیڈکواٹرز میں ان کا علاج کر رہے ہیں۔ فلسطینی کابینہ کے ایک رکن نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے رائٹر کو بتایا ہے کہ پچھتر سالہ یاسر عرفات کی صحت بہت زیادہ خراب ہو چکی ہے۔ کچھ اطلاعات کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے صدر یاسر عرفات نے اپنی گرتی ہوئی صحت کی وجہ سے اقتدر ایک کونسل کے حوالے کرنے والے ہیں۔ یاسر عرفات نے جن تین فلسطینی رہنماؤں کو اپنے پاس بلایا ہے ان میں فلسطینی وزیر اعظم احمد کوری، سابق وزیر اعظم محمود عباس اور فلسطینی اسمبلی کے سپیکر سلیم الزانون شامل ہیں۔ یاسر عرفات کے مشیر نبیل ابی ردونا نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ یاسر عرفات فلسطینی اقتدار کو منتقل کرنے والے ہیں۔ اسرائیل جس نے رملہ ہیڈکواٹرز کو گھیرے میں لے رکھا ہے، نے کہا ہے کہ یاسر عرفات علاج کے لیے کہیں بھی جا سکتے ہیں۔ اسرائیل کو یاسر عرفات کے رملہ ہیڈکواٹرز سے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن وہ ان کی رملہ ہیڈ کواٹرز میں واپسی کے بارے میں خاموش ہے۔ اسرائیل کے ایک اعلی اہلکار نے خبر رساں ایجنسی رائٹر کو بتایا ہے یاسر عرفات کہیں بھی جا سکتے ہیں لیکن ان کی واپسی ’ایک مختلف معاملہ ہے‘ ایک ہفتے پہلے تیونس کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے یاسر عرفات کا معائنہ کیا تھا۔ اور بعد میں ان کی انڈوسکوپی بھی ہو چکی ہے۔ابتدائی اطلاعات کےمطابق وہ کسی مہلک بیماری میں مبتلا نہیں ہیں۔ یاسر عرفات کے ڈاکٹر اشرف کردی نے رائٹر کو بتایا ہے کہ اس کو پیغام ملا ہے کہ جلد از جلد رملہ ہیڈکواٹرز میں پہنچ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کو یاسر عرفات کی بیماری کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہے۔ اشرف کردی فلسطینی رہنما کے ذاتی معالج ہیں اور وہ بہت لمبے عرصے سے فلسطینی رہنما کا علاج کرتے رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||