BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 December, 2003, 12:18 GMT 17:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیرون اور طاقت کا انصاف

شیرون
نیا دباؤ اس فصیل کی تعمیر سے پیدا ہوا ہے جو بظاہر یہودی بستیوں کے تحفظ کے نام پر تعمیر کی جا رہی ہے

اسرائیلی وزیر اعظم ایرئیل شیرون پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ بزور طاقت امن قائم کرنے کی اپنی پالیسی ترک کر کے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کریں۔

اسرائیلی مخالفت کے باوجود امریکی وزیر خارجہ کولن پاؤل کی جانب سے جینیوا امن منصوبے کے خالقوں کو ملاقات کی دعوت اسی پالیسی کا حصہ معلوم ہوتی ہے جس کے تحت صدر بش نے برطانیہ کے دورے کے دوران فلسطینی علاقوں کے گرد حفاظتی فصیل بنانے پر اسرائیل کی سرزنش کی تھی۔

وطن واپس جا کر بھی بش نے اپنا لہجہ تبدیل نہیں کیا اور یہودی آباد کاروں کے لئے مقبوضہ علاقوں میں نئی بستیاں تعمیر کرنے کی پاداش میں اسرائیل کو ملنے والے قرض میں تین سو ملین ڈالر کی کمی کا اعلان کر دیا۔ اس اقدام سے اسرائیل کو نقصان تو کچھ خاص نہیں ہوا لیکن اس کی علامتی اہمیت ضرور ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات اتنے مضبوط ہیں کہ عموماً تل ابیب واشنگٹن کی دھمکیوں کی زیادہ پرواہ نہیں کرتا۔ پھر اب تو امریکہ میں صدارتی انتخابات بھی سر پر ہیں۔ ایسے میں کہی جانے والی باتیں اور کئے جانے والے اقدامات سیاسی ضرورت بھی ہو سکتے ہیں، اور شیرون کی جانب سے نقشہ راہ کو ناکام بنانے پر امریکی غصے کا اظہار بھی۔

لیکن شیرون کو جس دباؤ کا سامنا ہے اس کی نوعیت بیرونی نہیں اندرونی ہے۔

اسی سال ستمبر میں جب اسرائیلی فضائیہ کے ستائیس ہوابازوں نے فلسطینی علاقوں پر بمباری کرنے سے انکار کیا تو میڈیا اور سیاستدان، دونوں نے ان کو برا بھلا کہا۔ فوج کے چیف آف سٹاف موشے یاءلون نے تو یہاں تک کہا کہ ان ہوابازوں کا مسئلہ اخلاقی نہیں سیاسی ہے، اور اس پر ذرائع ابلاغ میں بات کر کے انہوں نے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہے۔

اسرائیلیوں کے ذہن سے یہ بات کھرچ دی گئی ہے کہ خود کش حملوں کا باعث اسرائیلی پالیسیاں بھی ہو سکتی ہیں

لیکن اگلے ہی ماہ خود موشے یاءلون نے اخباری نمائیندوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے فلسطینیوں کے ساتھ برا سلوک کرنے پر اسرائیلی حکومت پر کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی غصے کی بنیاد اسرائیلی رویہ ہے۔ اس واقعے سے اسرائیلی فوج میں سخت گیر اور معتدل عناصر کے درمیان ابھرتی ہوئی لکیر کا پتا چلتا ہے، گو یہ کہنا ابھی مشکل ہے کہ کس گروہ کو کتنی برتری حاصل ہے۔

لیکن سب سے بڑا طوفان ملک کے خفیہ ادارے شِن بیت کے چار سابق سربراہوں نے اٹھایا جنہوں نے نوومبر میں ریڈیو اور اخبارات کوانٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل نے غزہ سے اپنی فوج واپس نہیں بلائی اور یہودی بستیوں کو خالی نہیں کیا تو اسے تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ان میں سے ایک کا کہنا تھا: ’ہم تباہی کے گڑھے میں گر رہے ہیں۔ اگر ہم تلوار کے زور پر جیتے رہے اور صورتحال کو بدلنے کے لئے کچھ نہ کیا تو ہم کیچڑ میں دھنستے دھنستے ختم ہو جائیں گے‘۔

یہ باغیانہ خیالات صرف حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجیوں تک ہی محدود نہیں۔ عوام کے ہر حلقے میں کسی نہ کسی حد تک یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ شیرون کی سخت گیر پالیسیوں سے انہیں سکیورٹی تو نہیں مل پائی، الٹا فلسطینی انتہا پسندوں کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

کچھ اسرائیلی سمجھتے ہیں کہ شیرون کی سخت گیر پالیسی نے عدم تحفظ کو بڑھایا ہے

معروف مصنف ڈیوڈ گراس مین نے حال ہی میں ایک اخباری مضمون میں یہ الفاظ لکھے: ’ہر دن جو تبدیلی کے بغیر شروع ہوتا ہے، اسرائیل کو پاتال سے ایک سینٹی میٹر قریب لے جاتا ہے۔ یہاں جو انسانی اور سیاسی حقیقت پیدا کی جا رہی ہے مجھے اس سے ڈر لگتا ہے، اور موجودہ حکومت میں ایسا کوئی نہیں جو اس کا حل پیش کر سکتا ہو‘۔

یہ سب اپنی جگہ، لیکن اسرائیل میں ابھی تک عوامی سطح پر کوئی ہلچل دیکھنے میں نہیں آئی۔ لوگ حکومت پر تنقید کر بھی لیتے ہیں اور سن بھی لیتے ہیں لیکن اس رویے نے ابھی تحریک کی شکل اختیار نہیں کی۔ ایک ایسی تحریک جو تل ابیب کو ان ’مشکل قربانیوں‘ پر عمل کے لئے تیار کر سکے جن کو دہرو کر عوام کو ڈرایا تو جاتا ہے لیکن ان پر عمل کر کے لوگوں کا ڈر ہمیشہ کے لئے ختم نہیں کیا جاتا۔

اسرائیلی عوام کے بارے میں یروشلم پوسٹ اخبار نے ایک اداریے میں لکھا تھا: ’ہم یہودیوں نے ایک ایسا دماغی نظام وضع کر رکھا ہے جس کے باعث ہمارے ہاتھوں بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی حالت کے بارے میں کوئی لفظ، کوئی تصویر ہمارے ذہن میں جگہ نہیں بنا پاتی۔

’ہم نے اپنی قوت ارادی کے زور پر خود کو اپنے گرد و پیش سے کاٹ لیا ہے۔ اس لئے جب بم حملے میں یہودی مارے جاتے ہیں تو ہمیں اس کا کوئی تعلق ان اقدامات سے نظر نہیں آتا جو ہم فلسطینی علاقوں میں کرتے ہیں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد