BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 November, 2003, 19:18 GMT 00:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یہودی بستیوں پر اسرائیل کو ’سزا‘
اسرائیلی یہودی بستیاں
اسرائیل فلسطینی علاقے میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر پچاس کروڑ سالانہ خرچ کرتا ہے

اسرائیل کی طرف سے غرب اردن اور غزہ میں یہودی بستیاں قائم کرنے سے متعلق سرگرمیوں کے رد عمل میں امریکہ نے اسرائیل کو دیئے جانے والے قرضے کی ضمانت میں انتیس کروڑ ڈالر کی کٹوتی کر دی ہے۔

امریکہ اسرائیل کی جانب سے غرب اردن میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو جدا کرنے کے لئے کرنے لئے دیوار کی تعمیر کے بھی خلاف ہے۔

یہ کٹوتی امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو نو ارب ڈالر کے قرضہ کی ضمانت میں کی گئی ہے اور اس کا واشنگٹن کی طرف سے اسرائیل کو براہ راست دی جانے والی مالی امداد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

لیکن اس امریکی اقدام کو علامتی طور پر اہم اور مشرق وسطیٰ میں حالات کو قابو میں لانے کی نئی امریکی کوششوں کا مظہر تصور کیا جا رہا ہے۔

گارنٹی کی رقم میں کٹوتی پر فریقین میں اتفاق رائے وائٹ ہاؤس کی اعلیٰ اہل کاروں اور اسرائیلی وزیر اعظم کے نمائندوں کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والے ایک اجلاس میں ہوا۔

امریکی انتظامیہ اس بات کا اصولی فیصلہ کیا تھا کہ وہ اسرائیل کو دیئے جانے والے قرضے کی گارنٹی میں اتنی کمی کرے گا جتنی رقم اسرائیل فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کے قیام پر صرف کرے گا۔

اگرچہ اسرائیل کبھی بھی یہودی بستیوں پر خرچ ہونے والی رقم کو منظر عام پر نہیں لایا لیکن ایک اسرائیلی اخبار کی طرف سے اکتوبر میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق اسرائیل یہودی بستیوں کی صرف تعمیر پر پچاس کروڑ ڈالر سالانہ خرچ کرتا ہے۔

حالیہ امریکی اقدام کی رو سے اسرائیل غیر ملکی بینکوں سے انتیس کروڑ کے برابر قرضہ حاصل کرنے سے محروم ہو جائے گا۔

اس سے پہلے امریکی وزارت خارجہ نے اسرائیل پر واضح کیا تھا کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ طے شدہ پالیسیوں سے لگاتار روگردانی کرکے امریکی ناراضگی کا خطرہ مول لے رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے لندن میں اپنے خطاب کے دوران بھی صدر بش نے اسرائیل کو یہودی بستیوں اور غرب اردن میں دیوار کی تعمیر سے متعلق ایک غیر معمولی طور پر سخت پیغام دیا۔

لیکن واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ بامفورڈ کا کہنا ہے کہ صدر بش کو داخلی وجوہات کی بنا پر اسرائیل پر دباؤ ڈالنے میں احتیاط سے کام لینا ہو گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد