BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 December, 2003, 05:26 GMT 10:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرق وسطیٰ میں امن کا منصوبہ
مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا ایک متبادل منصوبہ
اس منصوبے کی تیاری کا سہرا اسرائیل کے سابق وزیر انصاف یوسی بیلین اور سابق فلسطینی وزیر اطلاعات عبد ربہ کے سر ہے

چند ممتاز اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا ایک متبادل غیر سرکاری منصوبہ تیار کیا ہے جو سوئٹزر لینذ کے شہر جنیوا میں پیش کیا گیا۔

منصوبہ مرتب کرنے والوں کا خیال ہے کہ اس کی مدد سے امن کے ڈگمگاتے عمل کو تقویت دی جاسکے گی۔

منصوبے میں فلسطینی ریاست کے قیام، تمام یہودی بستیوں کے خاتمے اور اسرائیلی حکومت کے اس حق کی تجاویز ہیں کہ کتنے فلسطینی مہاجروں کو وہ واپس لینے کے لۓ تیار ہے۔

بائیں بازو کی ممتاز اسرائیلی اور فلسطینی شخصیتوں نے سمجھوتے کا یہ مسودہ مرتب کیا ہے جو امریکی نقشۂ راہ سے زیادہ آگے جاتا ہے۔

اس میں یروشلم پر مشترکہ حاکمیت کی تجویز ہے اور فلسطینی مہاجروں کے اس حق کو ختم کرنے کے لۓ کہا گیا کہ وہ ان گھروں میں واپس جائیں جہاں سے اسرائیل کے قیام کے وقت بے دخل کئے گئے تھے۔

منصوبے کی رونمائی کی تقریب کا اہتمام سوئس حکومت نے کیا تھا جس میں امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر اور پولینڈ کے سابق صدر لیخ ووینسا کی طرح کے نوبیل انعان یافتہ لوگوں نے بھی شرکت کی۔

دنیا کے نامور اشخاص مثلاً سابق صدر بل کلنٹن نے خیر سگالی کے پیغامات بھیجے۔ سینکڑوں اسرائیلی اور فلسطینی بھی جنیوا میں منصوبے کی حمایت کے لئے گئے ہوۓ ہیں۔

پچاس صفحات پر مشتمل اس مسودے کی تیاری کے ڈھائی سال کے دوران اسرائیل کے سابق وزیر انصاف یوسی بیلین اور سابق فلسطینی وزیر اطلاعات عبد ربہ خفیہ مذاکرات میں مصروف رہے۔

سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے منصوبے پر تبصرہ کرتے ہوۓ کہا کہ یہ سمجھوتہ تنازعہ کے نازک ترین امور مثلاً سرحد کی نشان دہی، اسرائیلی آبادیوں، فلسطینی زمینوں پر زبردستی قبضے ، یروشلم اور مقدس مقامات کے مسئلے اور انتہائی تکلیف دہ یعنی فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کے مسئلے کو حل کرسکتا ہے۔

منصوبے کو یورپ کی حمایت حاصل ہے اور سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے زبانی حمایت کی ہے ۔لیکن اس کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں ہے۔

اسرائیل نے اسے فوراً مسترد کردیا ہے اور کہا ہے یہ حکومت کی جڑیں کاٹنے کے لۓ تیار کیا گیا ہے۔

یاسر عرفات نے سرعام اس کی تائید سے انکار کردیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے اپنے ایک اعلیٰ مشیر کو جنیوا کی تقریب میں بھیجا تھا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد