اسرائیل اور یورپی یونین: اختلافات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غرب اردن میں متنازعہ اسرائیلی فصیل کے بارے میں اسرائیل اور یورپی یونین کے درمیان اختلافات ختم کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے۔ تل ابیب میں ہونے والی اونچی سطح کی بات چیت کے بعد اسرائیل کے وزیر خارجہ سلون شالوم نے کہا کہ اب اسرائیل یورپ پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔ مگر یورپی یونین کے سفیر حاوئیر سولانا نے کہا کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی انسانی اور حفاظتی ضروریات کے درمیان ایک توازن قائم کرنا ہوگا۔ اقوام متحدہ میں یورپی یونین کے ممالک نے مشترکہ پالیسی کے تحت فصیل کو غیر قانونی ٹھہرانے اور اسے تباہ کرنے کے حق میں ووٹ ڈالا تھا۔ اسرائیل نے فصیل کے بارے میں بین الاقوامی مخالفت کی مذّمت کی ہے اور کہا ہے کہ چھ سو چالیس کلومیٹر لمبی فصیل اسرائیل کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ مسٹر شالوم نے بات چیت کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ اب میں اسرائیلیوں کو اس بات کا یقین نہیں دلا سکتا کہ یورپ ہمارا بھروسے کے قابل ساتھی ہے‘۔ مسٹر سولانا نے کہا کہ فصیل کی مخالفت کی وجہ یہ ہے کہ یہ فلسطینی علاقوں سے ہوتے ہوئے گزرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ملک کو اپنی زمین پر فصیل بنانے کا حق ہے مگر اسرائیلی فصیل بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔ اسرائیل یورپی یونین کو فلسطینی موقّف کا حامی خیال کرتا ہے اور نہیں چاہتا ہے کہ فلسطین کے ساتھ بات چیت میں یورپی یونین مداخلت کرے۔ اطلاعات کے مطابق اکتوبر میں ایک مشرق وسطٰی امن کانفرنس ہونے والی ہے۔ اس کانفرنس کے ترتیب کار مصر، اسرائیل اور امریکہ ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کانفرنس کا مقصد اسرائیل کی غزہ سے واپسی کے منصوبے کی مدد کرنا ہے۔ مگر مسٹر شالوم نے پریس کانفرنس میں اکتوبر میں ہونے والی کانفرنس کی اہمیت پر زیادہ زور نہیں دیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ کافرنس میں وزیروں یا سربراہوں کے درمیان بات چیت ہوگی۔ اسرائیل نے حال ہی میں غزہ میں مقیم اپنے سات ہزار باشندوں کی واپسی کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ حال ہی میں غزہ میں صورت حال مزید بگڑ گئی ہے اور تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ مسٹر سولانا نے کہا کہ فلسطین کے ساتھ یورپی یونین کی حمایت کا دارومدار فلسطینی وزیر اعظم احمد قریع کے اپنے عہدے پر برقرار رہنے پر ہے۔ مسٹر قریع نے جمہوری اصلاح کے بارے میں یاسر عرفات کی مخالفت کی وجہ سے اپنا استعفیٰ دے دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||