ٹروجن ہارس وائرس سے جاسوسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل میں پولیس کا کہنا ہے اس نے جاسوسی کے ایک بہت بڑے سکینڈل کا پتہ چلایا ہے جس میں کمپیوٹر وائرس کے ذریعے بڑی بڑی کمپنیاں ایک دوسرے کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرتی تھیں۔ جاسوسی کی اس سازش میں اسرائیل کے کم از کم پندرہ ادارے ملوث بتائے جاتے ہیں اور اب تک اٹھارہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ دو افراد کو برطانیہ سے حراست میں لیا گیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے جن اداروں پر اس سکینڈل کے حوالے سے شبہے کا اظہار کیا ہے ان میں اسرائیل کی بڑی ٹیلی کام اور میڈیا کمپنیاں شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ کمپنیاں ٹروجن ہارس نامی وائرس کو استعمال کرتی تھیں جس کا خالق ایک اسرائیلی ہے اور اس سے مخالفین کے کمپیوٹر نظام پر دسترس حاصل کر لی جاتی تھی۔ جاسوسی کی اس کارروائی کی تحقیق امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور انٹرپول کر رہے ہیں اور اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ اس میں کچھ بڑی بین الاقوامی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی میں فراڈ کی تحقیقات کرنے والے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ یہ اسرائیل میں صنعتی سطح پر جاسوسی کا شاید سب سے سنگین سکینڈل ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات گزشتہ سال نومبر ہی سے شروع ہو گئی تھیں اور جوں جوں واقعات سامنے آتے رہے، اسرائیلی کے بڑے بڑے اداروں کے نام بھی سامنے آئے۔ اسرائیل کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنی بیزق کے بارے میں شبہہ تھا کہ وہ بھی اس سکینڈل میں ملوث ہے لیکن اب اس کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ خود ٹروجن ہارس نامی وائرس سے متاثر ہے۔ ایک مقامی اخبار کے مطابق موبائل فون کی ایک دوسری کمپنی نے جو بیزق کی حریف ہے، شاید اس نے بیزق کی جاسوسی کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح کار برآمد کرنے والی دو بڑی کمپنیوں پر شبہ ہے کہ انہوں نے ایک دوسرے کی جاسوسی کرائی۔ اسی طرح اسرائیل کی دو بڑی سیٹلائٹ اور کیبل ٹیلی وژن کمپنیوں کے بارے میں بھی ایک دوسرے کے خلاف جاسوسی کا شبہ ہے۔ جن کمپنیوں پر شبہ ہے وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ ان کے خلاف کسی قسم کی فردِ جرم بھی ابھی تک عائد نہیں کی گئی۔ پولیس کا خیال ہے کہ عالمی سطح پر اور اسرائیل کی حد تک کم از کم ساٹھ کے قریب بڑی کمپنیاں جاسوسی کے اس سکینڈل میں ملوث ہو سکتی ہیں۔ ٹروجن ہارس نامی وائرس کمپیوٹروں میں گھس جاتا ہے جس کے بعد ہیکرز اس کمپیوٹر پر کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں۔ برطانیہ میں پولیس نے ایک اسرائیلی شخص کو گرفتار کیا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ٹروجن ہارس نامی وائرس کا خالق ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||