کمپیوٹروں کو خطرہ بڑھ گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کمپیوٹروں پر حملہ آور ہونے والےمختلف وائرسوں اور دیگر نقصان دہ پروگراموں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ کمپیوٹروں کے تحفظ کے لیے سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی مکافی کا کہنا ہے کہ سباٹ کی قسم کے ایک وائرس کو کمپیوٹروں کی سیکیورٹی کے لیے لاکھواں خطرہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ بگ کمپیوٹر میں داخل ہو کر وائرس کو پھیلنے میں مدد دیتاہے اور کمپیوٹر کے مالک کی ذاتی تفصیلات چراتا ہے۔ مکافی کا کہنا ہے کہ ایسے وائرسوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے جو ایسے موذی پروگرام پیدا کرنےکے لیے تیار کیے جاتے ہیں جو سکیورٹی سافٹ ویئرز کو دم بخود کر دیتے ہیں۔ مکافی کے ترجمان وینسینٹ گولاٹو کہتے ہیں کہ ’سپائی ویئر‘ اور ایڈ ویئر‘ انچاہے کمپیوٹر پروگراموں کے زمرے میں آتے ہیں کیوں بیشتر لوگ انجانے میں ہی ان کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایڈ ویئر کے باعث پاپ اپ اشتہار صارف کے انٹرنیٹ پر براؤزنگ کے دوران یا براؤزنگ کے بغیر ہی کمپیوٹر میں آ جاتے ہیں جبکہ سپائی ویئر اس بات پر نظر رکھتا ہے کہ صارف کن سائٹس پر جاتے ہیں اور کمپیوٹر پر کیا کام کرتے ہیں۔ وینسینٹ گولاٹو کہتے ہیں کہ سن دو ہزار تین میں بائیس ہزار بگ سامنے آئے ہیں جن میں سے بیشتر ونڈوز کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کے مطابق بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سن دو ہزار میں اس سے بھی زیادہ بگ سامنے آئیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||