سیسر کا لاکھوں کمپیوٹروں پر حملہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیسر نامی وائرس، جو پہلی مرتبہ یکم مئی کو منظر عام پر آیا تھا، پوری دنیا میں لاکھوں کمپیوٹروں کو مسلسل متاثر کر رہا ہے۔ ماہرین کےمطابق اب تک یہ وائرس دس لاکھ سے زیادہ کمپیوٹروں کو تباہ کر چکا ہے اور کئی کمپیوٹروں کے سسٹم متاثر کر چکا ہے۔ حال میں سامنے آنے والے وائرسوں کے بر عکس سیسر وائرس ای میل کے ذریعے سفر نہیں کرتا بلکہ انٹرنیٹ پر بنا کسی مدد کے خود سے پھیل جاتا ہے۔ دنیا کی سات بڑی کمپنیوں میں ہونے والے پچھلے سات بڑے وائرس حملوں کا ذمہ دار اسی وائرس کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔ یہ وائرس ان کمپیوٹروں کو اپنا نشانہ بناتا ہے جن پر ونڈوز ٹو تھاؤزنڈ یا ایکس پی ضروری سیکورٹی پیچ کے بنا کام کررہی ہوں۔ گو ونڈوز 95 اور 98 اور ایم ای والے کمپیوٹر اس وائرس سے خود متاثر نہیں ہورہے۔تاہم ان کمپیوٹروں سے بھی سیسر پھیل سکتا ہے۔ اینٹی وائرس سوفٹ وئیر بنانے والی کمپنیاں کمپیوٹر صارفین سے اپیل کر رہی ہیں کے وہ مائیکروسوفٹ کی طرف سے اس وائرس کے تدارک کے لئے بنایا گیا پیچ اپنے کمپیوٹروں میں لگا لیں۔ یہ وائرس ای میل کی مدد کے بغیر خود سے انٹرنیٹ کے ذریعے اتنی تیزی سے پھیلتا ہے کہ نیٹ ورک میں ڈیٹا کے بہاؤ میں بہت زیادہ تیزی آجاتی ہے اور وہ جام بھی ہوسکتا ہے۔ ابتدائی رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ گھریلو استعمال کے کمپیوٹروں کا ئرس سے زیادہ متاثر ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ براڈ بینڈ استعمال کرنے والی کئی کمپیوٹروں میں ایسی فائر وال نہیں لگی ہوتی جو سیسر جیسے وائرسوں سے بچا سکے۔ آئی ٹی سیکیورٹی کے ادارے ایف سکیور کا کہنا ہے کئی بڑی بڑی کمپنیوں نے پہلے ہی اپنے کمپیوٹروں کو سیسر سے محفوظ رکھنے کے لئے حفاظتی پیچ ڈاؤن لوڈ کر رکھے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||