| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیگل: کمپیوٹرز کو ’بیمار‘ کرنےوالا نیا وائرس
کمپیوٹر کے اداروں نے متنبہ کیا ہے کہ ایک نیا کمپیوٹر وائرس ’بیگل‘ تیزی سے دنیا بھر میں پھیل رہا ہے۔ اب تک یہ ستاسی ممالک کے کمپیوٹرز کو متاثر کرچکا ہے۔ بظاہر یہ وائرس تیکنیکی شعبے سے ایک ٹیسٹ پیغام کی صورت میں کمپیوٹر استعمال کرنے والے کی ای میل میں آتا ہے۔ پیغام کا موضوع صرف ایک لفظ ’ہائے‘ پر مشتمل ہوتا ہے۔ پیغام کھولنے پر اس کے ساتھ ایک اٹیچڈ یا جڑی ہوئی فائل سامنے آتی ہے جو بظاہر ایک کیلکیولیٹر کی مانند دکھائی دیتی ہے۔ اگر اس اٹیچڈ فائل کو کھول دیا جائے تو کمپیوٹر کا نظام اس وائرس سے متاثر ہوجاتا ہے۔ بیگل نہ صرف کمپیوٹر کی ایڈریس بُک سے تمام پتے چرا کر اپنے آپ کو ان پتوں پر پھیلا دیتا ہے بلکہ یہ اپنے تخلیق کار کو ایک پیغام بھی بھیجتا ہے کہ یہ کمپیوٹر متاثر ہوچکا ہے۔ یہ وائرس متاثر شدہ کمپیوٹر اور اپنے تخلیق کار کے درمیان ایک ایسا رابطہ قائم کردیتا ہے جسے استعمال کرکے بیگل کا تخلیق کار اس کمپیوٹر پر کنٹرول حاصل کرکے اسے ’ہیک‘ کرسکتا ہے۔ کمپیوٹر کے ادارے میسج لیبز کے ایک تجزیہ کار پال ووڈ کا کہنا ہے کہ اب تک کی معلومات کے مطابق بیگل نے ساٹھ ہزار کمپیوٹرز کو متاثر کیا ہے اور یہ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ میسج لیبز کے مطابق سب سے زیادہ کمپیوٹرز آسٹریلیا میں متاثر ہوئے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ بیگل بھی سوبِگ وائرس سیریز کے ڈیزائن پر بنایا گیا ہے کیونکہ بیگل اس سے بہت حد تک مشابہہ ہے۔ اب سے پہلے تک کے وائرسز کی طرح بیگل بھی ایک مقررہ مدت تک پھیلتا رہے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اٹھائیس جنوری کو پھیلنا ختم ہوجائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||