BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 November, 2003, 04:46 GMT 09:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کمپیوٹر وائرس کے بیس برس

گزشتہ بیس سال میں وائرس نے کمپیوٹر استعمال کرنے والوں کے لئے طرح طرح کے مصائب اور مشکلات پیدا کی ہیں۔

بیس برس قبل فریڈ کوہن نے باضابطہ درج ہونے والا پہلا کمپیوٹر وائرس ڈیزائن کیا تھا۔ یہ وائرس کمپیوٹر سیکورٹی کے لئے ایک تجربے کے طور پر بنایا گیا تھا۔

آج کل تقریباً ساٹھ ہزار قسم کے وائرس موجود ہیں اور یہ اب ایک درد سر سے بڑھ کر مستقل مصیبت بن گئے ہیں۔ وائرس پروگرام لکھنے والے نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں اور آج کے ’مہلک‘ ترین وائرس، نئے شکار کی تلاش اور تباہی مچانے کے لئے انٹرنیٹ کا بھر پور استعمال کرتے ہیں۔

فریڈ کوہن نے اپنا وائرس یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا میں پی ایچ ڈی کے حصول کے دوران بنایا تھا۔ اس سے قبل لوگوں نے خطرناک سافٹ ویئر پروگرام تیار کرنے کے امکانات پر لکھا ضرور تھا، لیکن مسٹر کوہن وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اس پر عمل کر دکھایا۔

اپنی تخلیق کے بارے میں لکھے گئے ریسرچ پیپر میں انہوں نے وائرس کو کچھ یوں بیان کیا تھا: ’ایک ایسا پروگرام جو دوسرے پروگراموں میں از خود خلل پیدا کرکے ان کی کارکردگی کو اپنے تابع بنا لیتا ہے۔‘

تجربات کے دوران مسٹر کوہن نے دکھایا کہ کس طرح ان کا وائرس ایک گھنٹے سے کم وقت میں کمپیوٹر کے کسی بھی حصے تک پہنچ سکتا ہے۔ ایک عمل میں تو صرف پانچ منٹ صرف ہوئے۔

فریڈ کوہن نے اپنے تجربوں کے نتائج انیس سو تیراسی میں ایک سیکورٹی سیمنار میں پیش کئے۔

کوہن کی تخلیق سے کمپیوٹر حلقے تشویش کا شکار ہو گئے اور مزید تجربوں پر پابندی عائد کردی گئی۔ لیکن تیر کمان سے نکل چکا تھا، کوہن نے اس کے بعد ایک چھوٹے وائرس کا مظاہرہ کیا جو دوسرے کمپیوٹر نظاموں پر بھی اثر انداز ہو سکتا تھا۔

اپنے ریسرچ پیپر میں کوہن نے کچھ اس طرح کی پیشن گوئی کی:’ یہ (وائرس) کمپیوٹر نیٹ ورکس میں ٹھیک اسی طرح پھیل سکتے ہیں جیسے کسی ایک کمپیوٹر میں۔ اس لئے ان سے کئی موجودہ نظاموں کو وسیع اور فوری خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔‘

وائرس فلاپی کے ذریعے پھیلتے تھے

کوہن کی تاریخ ساز تخلیق کے بعد ایسے وائرس نمودار ہونے لگے جو آئی بی ایم پی سی پر، جو حال ہی میں وجود میں آئے تھے، اثر انداز ہو سکتے تھے۔ پاکستان میں’ برین‘ نامی پہلا وائرس دو نوجوانوں امجد اور باسط علوی نے انیس سو چھیاسی میں بنایا۔ یہ بھی تیزی سے ایک کمپیوٹر سے دوسرے کمپیٹر تک پھیل سکتا تھا۔

برین کے طرز پر دوسرے وائرس بہت جلد نمودار ہونے لگے جن میں یروشلم، کیسکیڈ اور میامی قابل ذکر ہیں۔ یہ سارے وائرس پی سی استعمال کرنے والوں کو متاثر کرنے لگے اور فلاپی ڈسک کے ذریعے ایک کمپیوٹر سے دوسرے تک پھیلنے لگے۔

انیس سو بانوے میں مائکل اینجلو نامی وائرس نے دنیا کے ذرائع ابلاغ کی توجہ اپنی طرف مرکوز کرائی، لیکن یہ اتنا نقصان نہیں کر پایا جتنا اس کے بارے کہا گیا تھا۔

ونڈوز کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ نئے قسم کے وائرس بھی ابھرنے لگے۔ مائکروسافٹ ورڈ میں ایک خاص صلاحیت کا استعمال کرنے والے وائرسوں کی تو بارش سی ہونے لگی۔ انہیں ’میکرو‘ وائرس کہا گیا اور یہ اس لئے زیادہ تیزی سے پھیلنے لگے کیونکہ سافٹ ویئر پروگراموں کے مقابلے میں لوگ ورڈ ڈاکیومنٹس یا تحریروں کا زیادہ تبادلہ کرتے ہیں۔

ونڈوز میں متواتر تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ وائرس بنانے والے اپنے ’جراثیم‘ کو بھی نئی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرتے رہے ہیں۔

مارچ انیس سو ننانوے میں ظاہر ہونے والے ملیسا وائرس نے ایک نئی مصیبت پیدا کر دی۔ اس وائرس نے لوگووں کے کمپیوٹر میں داخل ہو کر خود کو تمام ای- میل پتوں پر بھیج دیا۔ یوں یہ ای میل کے ذریعے بہت تیزی سح پھیلتا گیا۔ اس طرح کے وائرس ای میل پروگراموں میں کمزوروں کا فائدہ اٹھا کر برق رفتاری سے پھیلتے ہیں۔

’لو بگ‘ نے کئی لوگوں کو دھوکہ دیا

سن دو ہزار میں (Love Bug) کے ظہور کے بعد سے ہر سال ایک یا دو ایسے وائرس وجود میں آتے رہے ہیں جو پوری دنیا میں ہل چل مچا دیتے ہیں۔ دو ہزار میں ہی نمڈا اور کوڈ رڈ نامی وائرس بھی منظر عام پر آئے۔

حال میں سلیمر، سوبگ اور ایم ایس بلاسٹ نے کمپیوٹروں کی دنیا میں اتنا انتشار پھیلا یا اور نقصان کیا کہ جس کا ’پرانے زمانے‘ کے وائرس لکھنے والے سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد