برازیل: ہیکنگ کا عالمی’چیمپیئن‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برازیل کے دارالحکومت میں ماہرین ایک اجلاس کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ برازیل انٹرنیٹ فراڈ اور کمپیوٹر ہیکنگ کےعالمی دارالحکومت کا درجہ اختیار کر گیا ہے۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے پانچ سو کے قریب ماہرین برازیل میں ہونے والے اس اجلاس میں یوں شریک ہیں کہ عالمی سطح پر الٹرانک چوری کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ اس کانفرنس میں پولیس نے یہ بتایا کہ دنیا کے ہر دس کمپیوٹر ہیکرز میں سے آٹھ برازیل میں رہتے ہیں۔ خود برازیل میں بینک ڈکیتیوں میں اتنے پیسے نہیں جاتے جتنے انٹرنیٹ پر ہونے والی مالی فراڈ سے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انٹر نیٹ پر بچوں کی عریاں تصاویر سب سے پہلے برازیل ہی میں کمپیوٹر پر نمودار ہونا شروع ہوتی ہیں اور بعد میں دنیا کے دوسرے ممالک تک پہنچتی ہیں۔ دنیا کے دوسرے ممالک کے سکیورٹی ماہرین بھی یہی کہتے ہیں کہ گزشتہ سال برازیل سے ہیکنگ کے چھیانوے ہزار حملے ہوئے اور دوسرے ممالک سے کیے جانے والے ہیکنگ کے حملوں میں برازیل سے ہوئے حملوں کی تعداد چھ گنا زیادہ ہے۔ ہیکرز کے کئی گروپ مختلف ناموں سے کام کرتے ہیں۔ قانون کی کمزور گرفت کو ہیکنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ برازیل میں ہیکنگ جرم نہیں ہے لہذا مقدمہ چلانے کے لیے پولیس کو ثبوت فراہم کرنا ہوتا ہے کہ کہیں فراڈ ہوا ہے۔ برازیل کے ہیکرز بھی خود کو مجرم نہیں سمجھتے اور کہتے ہیں کہ وہ چوری کرنے کے لیے مختلف ویب سائٹس میں نہیں گھستے بلکہ اسے ایک چیلنج سمجھتے ہیں جس میں ذہن کی برتری ثابت ہوتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||