BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 March, 2004, 17:26 GMT 22:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انٹرنیٹ کے ہاتھوں لٹ گیا
انٹرنیٹ
کمپیوٹر کی دنیا اب اس کے لئے ایک تکلیفدہ سوچ ہے
اس ای میل فراڈ کہانی کا مرکزی کردار ایک چالیس سالہ، تجربہ کار، اعلیٰ تعلیم یافتہ تاجر ہے جس کے پاس پیسوں کی ریل پیل تھی۔ اس کا اپنا کاروبار تھا جس میں دس پندرہ افراد ملازم تھے۔اب شاید وہ اس طرح کبھی اپنا کاروبار نہیں چلا سکے گا۔

ای میل کا استعمال کرنے والے تقریباً روز ہی ایسی ای میلز (یا سپیم) وصول کرتے ہیں جن میں مختلف مصنوعات کی پرکشش پیشکش ہوتی ہے لیکن کم ہی لوگ ایسی میلز کا جواب دینے کا یا اسے تفصیلاً پڑھنے کا تردد کرتے ہیں۔

بد قسمتی سے یہ شخص، جو اپنا نام نہیں ظاہر کرنا چاہتا، ایسی ہی ایک بظاہر پرکشش ای میل کی چال میں آگیا جس میں دو ملین ڈالر منافع کا لالچ دیا گیا تھا۔ دو ملین ڈالر تو کیا کماتا، وہ شخص نہ صرف اپنا پھلتا پھولتا کاروبار ڈبو بیٹھا بلکہ دو لاکھ ڈالر کی رقم سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔

اب وہ اپنی زندگی کے مشکل دور سے گزر رہا ہے اور ان نقصانات سے پیدا ہونے والے گھریلو زندگی کے مسائل سے نمٹنے کی جستجو میں ہے۔ کمپیوٹر کی دنیا اب اس کے لئے ایک تکلیفدہ سوچ ہے۔

دو برس قبل اس نے اپنے کاروبار کی تشہیر کے لئے انٹرنیٹ کا استعمال کیا۔ بہت جلد ایک افریقی شخص ونسنٹ نے اس سے رابطہ کرلیا۔ ونسنٹ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بارہ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے فنڈز ایک بینک میں منتقل کرے گا جسے منظم کرنا اس تاجر کی ذمہ داری ہوگی۔ ونسنٹ نے بیس فیصد کمیشن ادا کرنے کا وعدہ بھی کیا۔

اس تاجر نے ایک اکاؤنٹ کھول کر ونسنٹ کو اپنی رقم منتقل کرنے کا کہا۔ تاہم اس اکاؤنٹ میں کوئی رقم نہ آئی۔ ونسنٹ نے کہا اسے کوئی مسئلہ درپیش ہے چنانچہ پہلے اس تاجر کو سات ہزار ڈالر ایک اور اکاؤنٹ میں ڈالنے ہوں گے جس کے بعد اسی اکاؤنٹ میں سرمایہ کاری کی رقم بھی آجائے گی۔ یہ تاجر اب بھی معاملے کو نہ سمجھ پایا اور اپنی رقم اس اکاونٹ میں منتقل کردی۔

بعد میں اسے بینک کے دستاویزات بھی موصول ہوتے رہے اور انٹر نیٹ پر اس کے اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی ملتی رہیں۔ بظاہر اس اکاؤنٹ پر اس تاجر کا اختیار تھا اور اس میں لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری وہ دیکھ سکتا تھا لیکن بعد میں یہ سب کچھ جعلی نکلا۔ جب اسے حقیقت کا علم ہوا تو بہت دیر ہوچکی تھی۔ وہ بڑی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

آج بھی اس تاجر کو ایسی ای میلز موصول ہوتی ہیں:

’نیا موسم مبارک ہو۔ میرا نام رونالڈ بیسے ہے۔ میں گلوبل ایپکس بینک کے قانونی شعبے کا ڈائرکٹر ہوں۔ میں آپ کو واجب الادا رقم ایک ہفتے کے اندر اندر آپ کو دلوا سکتا ہوں۔ لیکن پہلے آپ کو یہ وعدہ کرنا ہوگا کہ رقم کی وصولی کے بعد آپ مجھے آٹھ ہزار ڈالر معاوضہ دیں گے۔‘

لیکن اب وہ ان کا جواب دینے کی ہمت نہیں کرتا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد