سپیم بھیجنے والوں کے خلاف مقدمات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں انٹرنیٹ کی سروس مہیا کرنے والی چار بڑی کمپنیوں نے کہا ہے کہ انہوں نے غیر ضروری ای میلز یا سپیم بھیجنے والے سینکڑوں افراد کے خلاف چھ مقدمات دائر کئے ہیں۔ ایسی ای میلز روزانہ لاکھوں ای میل باکسز میں بھیجی جارہی ہیں۔ اب انٹرنیٹ کی بڑی کمپنیوں مائیکروسافٹ، اے او ایل، ارتھ لنک اور یاہو نے سپیم بھیجنے والوں کے خلاف مشترکہ طور پر کارروائی شروع کردی ہے۔ امریکہ میں سپیم کے انسداد کا قانون لاگو ہونے کے بعد یہ کارروائی کمپیوٹر کی صنعت کی جانب سے سپیم بھیجنے والوں کے خلاف پہلی بڑی کارروائی ہے۔ اے او ایل کے وکیل رینڈل بو نے کہا ہے کہ یہ اقدام ملک کے سب سے بدنام سپیم بھیجنے والوں کے خلاف کیا جارہا ہے اور پہلا قدم یہ ہوگا کہ ایسے افراد کا کاروبار بند کروا دیا جائے گا۔ امریکہ میں اس سال کے آغاز پر سپیم کے انسداد کا قانون لاگو کیا گیا تھا اور یہ انٹرنیٹ کمپنیوں کی کارروائی میں نہایت معاون ثابت ہورہا ہے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق انٹرنیٹ پر بھیجی جانے والی ای میلز میں سے ساٹھ فیصد ای میلز غیر ضروری ہیں۔ مائیکروسافٹ کی وکیل نینسی اینڈرسن کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں نیا قانون مددگار ثابت ہوگا کیونکہ سپیم بھیجنے والے بیشتر افراد امریکہ ہی میں رہتے ہیں۔ سپیم بھیجنے والوں کے خلاف یہ مقدمات کیلی فورنیا، جورجیا، ورجینیا اور واشنگٹن کی عدالتوں سے دائر کئے گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||