ونڈوز میں خامی، ہیکنگ کا باعث | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کمپیوٹر پروگرام ’ونڈوز‘ میں تصاویر شائع کرنے کے طریقہ کار میں خامی کے باعث بہت سے کمپیوٹر استعمال کرنے والوں پر ہیکرز آسانی سے اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ کمپیورٹر پروگرام بنانے والی کمپنی ’مائیکرو سافٹ‘ نے اس خامی کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتہائی مہارت سے بنائی گئی کچھ تصاویر کے ذریعے ایسے کوڈز کو بھیجا جا سکتا ہے جنہیں ونڈوز پہچان نہیں سکتی اور انہیں کھول دیتی ہے اور ان کو استعمال کر کے کمپیوٹرز کو ہیک کیا جاسکتا ہے۔ یہ خامی ان مخصوص کوڈز میں پائی گئی ہے جن کو اوپریٹنگ سسٹم اور دیگر ونڈو پروگرام ’ج پیگ‘ میں بنائی گئی تصاویر کو کھولتے ہیں۔ جو پروگرام اس خامی کے باعث ہیک ہو سکتے ہیں ان میں ایکس پی 2003، آفس 2003، ونڈو سرور 2003، انٹر نیٹ ایکس پلورر سکس پلس اور ڈیجیٹل ایمج پرو اور پکچرز شامل ہیں۔ مائیکرو سافٹ نے کمپیوٹر استعمال کرنے والوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس خامی کو دور کرنے کے لیے پروگرام کا ایک حصہ ڈاؤن لوڈ کر لیں۔ مائیکرو سافٹ نے ایک ایسا آلہ یا ٹول بھی بنایا ہے جس کی مدد سے کمپیوٹر استعمال کرنے والے یہ جان سکتے ہیں کہ کیا ان کے کمپیوٹر میں ایسا سافٹ وئیر چل رہا ہے جس میں یہ خامی پائی جاتی ہے۔ اس خامی کا فائدہ اسی صورت اٹھایا جا سکتا ہے جب کمپیوٹر استعمال کرنے والا مخصوص کوڈز کے ساتھ تیار کی جانے والی تصاویر کھول لیے۔ جو بھی شخص اس قسم کی تصاویر کھول لے گا اس کے کمپیوٹر پر ہیکر کا قبضہ ہو جائے گا۔ مائیکرو سافٹ کے مطابق اس کو ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے پتا چلے کہ اس خامی کو وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||