وائرس یا ڈیجیٹل دہشتگردی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یکم مئی کو منظر عام پر آنے والا سیسر نامی وائرس پوری دنیا میں اب تک لاکھوں کمپیوٹروں کو متاثر کر چکا ہے۔ ماہرین کےمطابق اب تک یہ وائرس دس لاکھ سے زیادہ کمپیوٹروں کو تباہ کر چکا ہے اور کئی کمپیوٹروں کے سسٹم متاثر کر چکا ہے۔ حال میں سامنے آنے والے وائرسوں کے بر عکس سیسر وائرس ای میل کے ذریعے سفر نہیں کرتا بلکہ انٹرنیٹ پر بنا کسی مدد کے خود سے پھیل جاتا ہے۔ اب تک اس وائرس سے متاثر ہونے والے اسی فیصد کمپیوٹرز گھریلو یا طلبِ علموں کے استعمال کے ہیں۔ یہ وائرس ان کمپیوٹروں کو اپنا نشانہ بناتا ہے جن پر ونڈوز ٹو تھاؤزنڈ یا ایکس پی ضروری سیکورٹی پیچ کے بنا کام کررہی ہوں۔ تاہم ونڈوز 95 اور 98 بھی اس سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہیں۔ کیا آپ سیسر وائرس سے متاثر ہوئے ہیں؟ اس کا تدارک کیا ہے؟ کیا ایسے وائرس کی تخلیق اور ان کا چھوڑا جانا ڈیجیٹل دہشت گردی کے مترادف ہے؟ ایسے کیا اقدامات ہیں جن کے ذریعے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے؟ رائے دیجئے یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں امیر خان، جہلم: کمپیوٹر انسان کی بنائی ہوئی چیز ہے، اس لئے یہ پرفیکٹ نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ اس قسم کے منفی اثرات ہوتے رہیں گے یہ سلسلہ کبھی نہیں رکے گا۔
محمد عاصف، ایبٹ آباد: جس انسان نے وائرس بنایا وہ دہشت گرد نہیں ہے۔ وہ بے انتہا ذہین ہے، ایسے شخص کو معلوم ہے کہ لوگ کمپیوٹر کے استعمال میں کس طرح کی غلطیاں کرتے ہیں۔ پہلے آپ کمپیوٹر کا استعمال سیکھیں، پھر یہ معلوم کریں کہ وائرس کا مقابلہ کیسے کریں اور اس کے بعد ہی وائرس بنانے والوں کے خلاف کچھ بھی لکھنے کی کوشش کریں۔ میں اسے دہشت گرد نہیں کہوں گا۔ رزی رحمان، امریکہ: جب مسلمان یہ کچھ بناتے ہیں، تو یہ دہشت گردی ہے اور اگر غیرمسلم بناتے ہیں تو یہ ڈیجیٹل وائرس ہے۔ راشد اکرام، اسلام آباد: میں گزشتہ تین سالوں سے وِنڈوز دوہزار کا استعمال کررہا ہوں اور مجھے وائرس حملے کا سامنا نہیں رہا۔ اپنے کمپیوٹر کو محفوظ رکھنے کے لئے آپ فائروال کا استعمال کریں۔ زین العابدین، اٹک، پاکستان: جی ہاں، یہ وائر بھی دہشت گردی ہے۔ لیکن چونکہ غیرمسلمانوں نے بنائی ہے اس لئے دہشت گردی کے ضمرے میں نہیں آتی۔ دوسری بات یہ ہے کہ اب امریکہ نے یہ شوشہ چھوڑا ہے وائرس کے بارے میں کہ یہ بھی اسامہ یا القاعدہ کا کیا دھرا ہے۔ عرفان قیوم، کنساس، امریکہ: یہ وائرس بھی مسلم وائرس ہوگا اور کسی مسلم ملک نے ہی بنایا ہوگا۔ دیکھو اب کس مسلم کی شامت آتی ہے اس وائرس کی وجہ سے۔ وائرس بنانے والا مسلم ہی ہوگا، القاعدہ کا بنانے والا۔ طاہر، راولپنڈی: میرے خیال میں بین الاقوامی سطح پر اس سلسلے میں قانون پاس ہونا چاہئے اور مجرموں کے عالمی تخریب کاروں کے طور پر نمٹنا چاہئے، میرا کمپیوٹر بھی متاثر ہوا تھا لیکن مائیکروسافٹ کی سیکیورٹی نے مجھے بہت مدد دی ہے۔ عبدالقدیر خان، پاکستان: اگر وِنڈو ایکس پی پر کوئی فائر وال یا کوئی اور وائرس پروٹیکٹر انسٹال کیا جائے تو اس سے وائرس کا حملہ ہونے کا بہت کم چانس ہے۔ اس سے بچنے کے لئے ہمیں لائسنس شدہ سی ڈی استعمال کرنا چاہئے۔ اور یہ ڈیجیٹل دہشت گردی ہے، اس سے بچنے کے لئے نیٹ سیکیورٹی کو تیز کرنا ہوگا۔ برہان فاروق، پاکستان: میری ہارڈ ڈِسک خراب ہوگئی ہے، پتہ نہیں یہ کون سا وائرس تھا۔ محمد آصف، ایبٹ آباد: میرے پاس ونڈوز ایکس پی کم از کم تین سال سے ہے اور میرا کمپیوٹر کبھی وائرس کا شکار نہیں ہوا کیونکہ میں نے ڈیفالٹ سیٹنگ میں فائر وال کو اینیبل کیا ہوا ہے۔ میری رائے میں آپ سے پوچھے بغیر کوئی وائرس آپ کے کمپیوٹر میں داخل نہیں ہوسکتا۔ میں کم از کم دس گھنٹے انٹرنیٹ استعمال کرتا ہوں۔ اگر میں اس کا شکار نہیں ہوا تو کوئی دوسرا کیسے ہوسکتا ہے۔
کاشف ندیم سید، انگلینڈ: وائرس سے میری پہلی مڈھ بھیڑ اسی روز ہو گئی تھی جس دن میں نے نیا کمپیوٹر خریدا تھا اور یہ سبق ذہن نشین ہوگیا تھا کہ وائرس کش پروگرام کے بغیر کمپیوٹر کو چلتا رکھنا محال ہے۔ اسی لئے ماہرین کا یہی مشورہ ہے کہ جب بھی کمپیوٹر خریدیں، دوکاندار سے ایک اچھا اینٹی وائرس ضرور انسٹال کروا لیں۔ اس طرح آپ وائرس اور ورمز سے ننانوے فیصد محفوظ ہوجاتے ہیں اور اسے بلاناغہ چلانا اور اپ گریڈ کرنا ہر گز نہ بھولیں۔ اعجاز کلیم، فیصل آباد: سیسر وائرس کے لئے میکیفی 8 سب سے بہترین فائر وال ہے۔ عمر سلیم، لاہور: زیادہ تر کمپیوٹر وائرس طالبِ علموں کے سیکھنے کے مقصد سے بنائے جاتے ہیں لیکن ان کا اس طرح سے استعمال کرنا بالکل ٹھیک نہیں۔ ایسے کاموں کو روکنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ طالبِ علموں کو سمجھایا جائے کہ کمپیوٹر کی تعلیم کو مثبت کاموں کے لئے استعمال کیا جانا چاہئے۔ احمد خان، مونٹریال: میرا خیال ہے کہ اس طرح کے وائرس کمپیوٹر کمپنیاں ہی اینٹی وائرس بیچنے کے لئے بناتی ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ اس ہفتے کون پیسے بناتا ہے؟ جمال، گجرات: ان کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ایسے لوگوں کو سخت سزا دی جانی چاہئے۔ میاں اسماعیل شاہ، ثوابی: اس طرح کے وائرس مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں کی تخلیق ہیں اور انہیں دہشت گرد ہی سمجھنا چاہئے۔ یہ ہمارے جیسے لوگوں کے کمپیوٹر تباہ کرنے کے لئے تلے ہوئے جنہیں بہت مشکل سے اپنا کام ان کمیوٹرز کے ذریعے کرنا ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مائکروسافٹ اس سلسلے میں کچھ کر سکتا ہے کیونکہ وہ کمپیوٹر کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ کامران، پشاور: یہ دہشت گرد ہی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||