اسرائیلی فائرنگ: تین لڑکے ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں تین فلسطینی لڑکوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے ۔ گزشتہ چند ہفتوں میں فلسطین میں ہونے والے تشدد کے اس بدترین واقعہ میں اسرائیلی فوج نے فلسطینی لڑکوں کے ایک گروپ پر فائرنگ کر دی۔ عینی شاہدوں کے مطابق یہ لڑکے مصر کی سرحد کے ساتھ ممنوعہ علاقے سے اپنا فٹ بال اٹھانے گئے تھے۔ ایک عینی شاہد علی ابو زیب کے مطابق ’یہ بچے فٹ بال کھیل رہے تھے کہ ہم نے فائرنگ کی آواز سنی۔‘ اطلاعات کے مطابق ان میں ایک لڑکے کی عمر چودہ اور ایک کی پندرہ سال تھی۔ فلسطینی حکام کے مطابق یہ نو عمر لڑکے کھلے میدان میں فٹ بال کھیل رہے تھے جب اسرائیلی فوج نے ان پر فائرنگ کر دی۔ فلسطینی رہنما محمود عباس نے فائرنگ کے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے فروری میں ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ نہتے فلسطینی لڑکوں کی ہلاکت کے بعد فلسطینیوں کی طرف سے غزہ میں یہودی بستیوں پر ماٹر کے گولے پھینکے گئے۔ ان حملوں میں کسی اسرائیلی کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تاہم اسرائیلی فوج کی جوابی فائرنگ سے کئی فلسطینی زخمی ہو گئے۔ تشدد کے اس واقعہ سے خطے میں موجود کشیدگی میں ایک ایسے وقت اضافہ ہوا ہے جب یہودی انتہاپسند یروشلم میں متنازعہ مذہبی مقام کی طرف مارچ کرنے والے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||