’فلسطینی انتخابات ملتوی ہو جائیگے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس نے کہا ہے کہ سترہ جولائی کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات اب ملتوی ہو جائیں گے۔ صدر عباس کا کہنا ہے کہ وہ انتخابات اس لیے ملتوی کر رہے ہیں کہ الیکشن کے قوانین میں تبدیلیوں کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ فلسطینی انتظامیہ کے صدر کا یہ اعلان ایک ایسے وقت آیا ہے جب فلسطینی سیاست ہلچل کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ مختلف فلسطینی دھڑوں اور قانون سازوں سے بات چیت کر نے کے بعد انتخابات کی نئی تاریخ کا اعلان کریں گے۔ لیکن فلسطینی شدت پسند تنظیم حماس نے الزام لگایا ہے کہ یہ صرف ایک بہانہ ہے اور دراصل صدر عباس اپنی جماعت فتح پارٹی کو انتخابات کی تیاری کے لیے مزید وقت دلانا چاہتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ فتح پارٹی اس وقت سیاسی انتشار کا شکار ہے اور اگر انتخابات اگلے ماہ اپنے مقررہ وقت پر ہوتے تو اسے حماس کی طرف سے بہت سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا۔ صدر عباس کا یہ اعلان اس لیے بھی اہم ہے کہ حماس کی طرف سے اسے معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جا سکتا ہے۔ صدر عباس نے جب حماس کو اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی پر راضی کیا تھا تو اس معاہدے کی ایک شق یہ بھی تھی کہ حماس کو ان انتخابات کے ذریعے فلسطینی حکومت کے فیصلوں میں شریک کیا جائے گا اور یہ کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے۔ حماس نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر انتخابات کی تاریخ تبدیل کی گئی تو جنگ بندی کے معاہدے پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔ یہاں یہ ذکر بھی اہم ہے کہ امریکہ کے اپنے حالیہ دورے میں صدر عباس نے اعلان کیا تھا کہ فلسطینی انتخابات ملتوی نہیں ہوں گے۔ امریکہ اگرچہ فلسطینی معاشرے میں جمہوریت کو فروغ دینے پر زور دیتا رہا ہے لیکن اس اعلان پر کسی سخت امریکی رد عمل کی توقع نہیں۔ امریکہ پہلے ہی حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے اور امریکی یقینًا چاہیں گے کہ جب بھی انتخابات ہوں، تو اعتدال پسند فتح پارٹی، حماس کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||