فلسطینی گروہ ’صُلح‘ سے لاتعلق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حماس اور اسلامی جہاد نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں کے درمیان مصر میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے پابند نہیں ہیں۔ فلسطین میں چار سال قبل شروع ہونے والی دوسری انتفادہ تحریک میں یہ دونوں تنظیمیں پیش پیش تھیں لیکن اب وہ جنگ بندی پر عمل کر رہی ہیں۔ حماس کا کہنا ہے کہ کسی اعلان سے پہلے ان کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا۔ لبنان میں حماس کے نمائندے اسامہ ہمدان نے کہا کہ جنگ بندی کے اعلان کا اطلاق ان کے ارکان پر نہیں ہوتا۔ خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس(اے پی) نے حماس کے نمائندے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’ہم نےمحمود عباس کے ساتھ طے کیا تھا کہ اسرائیل سے امن بین الفلسطینی مذاکرات کے نتیجے میں ہونا چاہیے‘۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تحریک سربراہی اجلاس کے بعد ہونے والے معاہدے کی پابند نہیں ہے کیونکہ اس میں فلسطینیوں کی شرائط تسلیم نہیں کی گئیں‘۔ اسلامی جہاد کے ترجمان محمد الہندی نے کہا کہ سربراہی اجلاس میں کچھ نیا نہیں ہوا۔ تاہم فلسطینی وزیر خارجہ نبیل شات نے تسلی کا اظہار کیا کہ جنگ بندی مکمل ہو گی۔ مشرق وسطیٰ میں بی بی سی کے نمائندے جیمز رینالڈز نہ کہا کہ صلح کے اعلان کے بعد سے لوگوں کے لیے کچھ زیادہ نہیں بدلا۔ فلسطینیوں کو کسی دوسرے گاؤں یا شہر جانے کے لیے بدستور اسرائیل فوجی چوکیوں کے باہر قطار بنانی پڑے گی اور اسرائیلی محافظ قہوہ خانوں اور دکانوں کے باہر خود کش حملہ آوروں پر نظر رکھنے کے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دونوں طرف کے حکام کو اپنے لوگوں کو باور کرانا ہوگا کہ سربراہی اجلاس کے بعد ہونے والے معاہدے سے ان کی روز مرہ کی زندگی میں مثبت تبدیلی آئے گی۔ اسرائیل اور فلسطین کے سلامتی کے معاملات کے لیے ذمہ دار حکام فلسطینی شہروں کا کنٹرول فلسطین اتھارٹی کے حوالے کرنے کے انتظامات کے بارے میں ملاقات کرنےوالے ہیں۔ آئندہ ہفتے اسرائیل فلسطینی قیدی رہا کر رہا ہے۔ لیکن یہ صرف ابتدائی اقدامات ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق مشکل مسائل جیسا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کی آبادکاری، یروشلم کا مستقبل وغیرہ پر بات چیت آئندہ کے لیے مؤخر کر دی گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||