BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 February, 2005, 13:56 GMT 18:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی
News image
اسرائیلی اور فلسطینی قیادت میں مذاکرات کا آغاز مسکراہٹوں سے ہوا
فلسطینی رہنما محمود عباس اور اسرائیلی وزیر اعظم اریئل شیرون نے مشرق وسطیٰ میں چار سال سے جاری تشدد کے سلسلے کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا کہ جنگ بندی پر فوری طور پر عمل درآمد ہوگا اور اس سے ’امن اور امید کے ایک نئے دور‘ کا آغاز ہوگا۔

اس موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم اریئل شیرون نے کہا کہ فلسطین کی جانب سے جنگ بندی کی اعلان کے جواب میں فلسطینیوں کے خلاف فوجی کارروائی روک دی جائے گی۔

جنگ بندی کا اعلان دونوں رہنماؤں کے درمیان مصر میں ہونے والی بات چیت کے بعد کیا گیا۔

سن دو ہزار میں فلسطینی انتفادہ کے آغاز کے بعد فریقین کے درمیان ہونے والا یہ سب سے اعلیٰ سطعی رابطہ تھا۔

مصر کے صدر حسنی مبارک اور اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ بھی فلسطینی اور اسرائیلی قیادت کے درمیان ہونے والی بات چیت میں شرکت کی۔

اس موقع پر مصر کے وزیر خارجہ عبدالغیت نے اعلان کیا کہ مصر اور اردن اپنے سفیروں کو اسرائیل واپس بھیج رہے ہیں۔

دونوں ملکوں نے انتفادہ کے آغاز کے بعد اسرائیل میں سفارتی موجودگی میں کمی کر دی تھی۔

اسرائیلی حکام کے مطابق سربراہی ملاقات کے بعد وزیر اعظم شیرون نے فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس کو جنوبی اسرائیل میں واقع اپنے فارم پر آنے کی دعوت دی۔

بی بی سی کی نامہ نگار حیبہ صالح کے مطابق محمود عباس مختلف فلسطینی دھڑوں سے جنگ بندی سے متعلق یقین دہانی حاصل کر چکے ہیں لیکن فلسطینی شدت پسند گروہوں سے مزید تعاون کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ اس کے بدلے میں انہیں اسرائیل کیا پیش کرتا ہے۔

فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل اور فلسطینی انتظامیہ کے مابین ہونے والے مذاکرات پر اپنے رد عمل میں کہا کہ جنگ بندی سے متعلق اعلانات پر عمل کرنا ان ارکان پر لازم نہیں ہے۔

لبنان میں حماس کے رہنما عثمان ہمدان نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ محمود عباس نے یک طرفہ موقف اختیار کیا ہے اور ان کا اعلان مختلف فلسطینی دھڑوں پر کے درمیان ہونے والی کسی بات چیت کا نتیجہ نہیں ہے۔

ٹیلی ویژن پر دکھائی گئی تصاویر میں مسٹر شیرون اور محمود عباس ہاتھ ملاتے ہوئے مسکراتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔

اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے کہا کہ وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تشدد کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔

’ہم نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ فلسطینی اور اسرائیلی جہاں بھی ان کے خلاف تشدد کی کارروائیوں کو فوری طور پر روک دیا جائے‘، یہ تھے محمود عباس کے الفاظ۔

’آج سے خطے میں جو امن قائم ہوگا وہ ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔‘

اسرائیلی وزیر اعظم اریئل شیرون نے اس موقع پر کہا کہ ایک لمبی مدد کے بعد یہ امید ہو چلی ہے کہ ایک تبناک مستقبل ہمارے اور ہماری اولاد کے منتظر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلیوں نے فلسطینیوں کے لیے چند دردناک قربانیاں دی ہیں۔

’میں اپنے فلسطینی ہمسائیوں سے وعدہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہم خلوس نیت سے اس بات کے خواہاں ہیں کہ آزادی سے اپنی زندگیاں بسر کریں۔ ہم ان کی زندگیاں کو کوئی کنٹرول نہیں چاہتے۔‘

انہوں نے اپنے اس وعدے کا بھی اعادہ کیا کہ سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔

اس موقع پر فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ چند فلسطینی علاقوں کا کنٹرول فلسطینی انتظامیہ کو واپس کر دیا جائے۔

مذاکرات میں شریک فلسطینی مذاکرات کار حسن ابو لبدیہ نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیل تین ہفتوں کے اندر جیریکو اور غرب اردن کے چار شہروں سے اپنی فوجیں واپس بلا لے گا۔

ضمیمہ: تشدد کے سائے میں زندگیفلسطینی المیہ
ضمیمہ: تشدد کے سائے میں زندگی
یاسر عرفاتمزاحمت کی علامت
یاسر عرفات یروشلم تا رملہ: خصوصی ضمیمہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد