BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 February, 2005, 11:28 GMT 16:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلسطینیوں کو4 کروڑ ڈالر کی امداد
کونڈالیزا رائس اور محمود عباس
کونڈالیزا رائس اور محمود عباس
امریکی وزیر خارجہ کونڈالیزا رائس نے ایک اعلان میں کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون اور فلسطینی سربراہ محمود عباس نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے معاملے پر بات چیت کے لیے آئندہ چند ہفتوں میں واشنگٹن آنے کی دعوت قبول کر لی ہے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ امریکہ فروغِ امن کے سلسلے میں عملی طور پر شریک ہو گا لیکن اسرائیل اور فلسطین کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

امریکی وزیر خارجہ نے جنرل ولیم وارڈ کو علاقے میں سیکیورٹی کے حوالے سے امریکہ کا رابطہ کار نامزد کیا ہے۔

امریکہ نے آئندہ نوے روز میں فلسطینی انتظامیہ کی امداد کے لیے چار کروڑ ڈالر کی امداد کا وعدہ بھی کیا ہے۔

News image
لیفٹیننٹ جنرل ولیم وارڈ

غرب اردن میں فلسطینی رہنما محمود عباس کے ساتھ ملاقات کے دوران کونڈالیزا رائس نے امن کے عمل کے لیے امریکی نگرانوں کی موجودگی کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔

محمود عباس نے اسرائیل سے بھی کہا ہے کہ وہ امن کے فروغ کے لیے اقدامات کرے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ منگل کو ایریل شیرون سے ملاقات کے دوران امن کا عمل مزید آگے بڑھے گا۔

شرم الشیخ میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امریکی شمولیت کے بغیر ہونے والے مذاکرات سنہ دو ہزار میں انتفادہ کے آغاز کے بعد سب سے اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوں گے۔

اس سے پہلے امریکی وزیرِخارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کے ساتھ امن قائم کرنے کے لیے کڑے فیصلے کرنے ہوں گے۔

امریکی وزیرِخارجہ کونڈالیزا رائس مشرقِ وسطیٰ کے سات روزہ دورے کے سلسلے میں اسرائیل پہنچیں اور اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کی۔

کہا جا رہا ہے کہ ان کے دورے کا مقصد فلسطین اور اسرائیل کے درمیان قیامِ امن کی کوششوں میں مزید تیزی لانا ہے۔

انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد امن کے لیے امریکی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت امن کے لیے ایک موقع ہے۔

انہوں نے کہا: ’میں خاص طور پر قیام امن کے عمل سے متعلق صدر بش اور اپنا ذاتی عزم لے کر یہاں آئی ہوں کیونکہ اس وقت مشرق وسطی میں قیام امن کا موقع ہے اور اسے ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہئے‘۔

امریکی وزیرخارجہ سوموار کو غرب اردن جائیں گی جہاں وہ فلسطینی لیڈروں سے بات چیت کریں گی۔

ان ملاقاتوں کے دوران انہیں منگل کو مصر میں ہونے والی اسرائیل فلسطین سربراہ ملاقات کی تیاریوں کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔

یہ گزشتہ چار برس کے دوران فلسطین اور اسرائیل کے مابین ہونے والا اعلیٰ سطح کا پہلا رابطہ ہو گا۔

نومبر میں یاسر عرفات کی وفات اور گزشتہ ماہ محمود عباس کے انتخاب سے علاقے کی سیاسی صورتحال میں واضح تبدیلی آئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد