ایران پر حملہ، ابھی نہیں: رائس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِخارجہ کونڈالیزا رائس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران پر حملہ اس وقت امریکہ کے ایجنڈے پر نہیں ہے۔ یہ بات انہوں نے برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر اور برطانوی وزیرِخارجہ جیک سٹرا سے لندن میں ملاقات کے بعد صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہی۔ امریکی وزیرِخارجہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کونڈالیزا رائس کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام سے نمٹنے کے لیے سفارتی اقدامات سے کام لے گا۔ تاہم انہوں نے ایران کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ بھی کہا کہ دہشتگردی کے لیے ایرانی امداد کی بنا پر فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن کے قیام میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ کونڈالیزا رائس نے ٹونی بلئیر اور جیک سٹرا سے اپنی ملاقات کو ’نتیجہ خیز‘ قرار دیا اور کہا کہ ’ امریکہ کا برطانیہ سے اچھا نہ تو کوئی دوست ہے اور نہ ہی کوئی ساتھی‘۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا ان کے خیال میں ایسے حالات ہیں کہ امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے، رائس کا کہنا تھا کہ ’ یہ معاملہ اس وقت امریکی ایجنڈے پر موجود ہی نہیں ہے‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ ہمارے پاس متعدد سفارتی ذرائع موجود ہیں اور ہم مکمل طور پر انہیں استعمال کرنا چاہتے ہیں‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی عوام ’بہتر طرزِ زندگی‘ کے حقدار ہیں۔ اس موقع پر برطانوی وزیرِ حارجہ جیک سٹرا نے کہا کہ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی ایران کے مسئلے کے سفارتی حل کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اور بین الاقوامی برادری کی حمایت کی بنا پر انہیں کچھ کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔ کونڈالیزا رائس یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے ایک ہفتے کےدورے پر ہیں اور اس دورے کے دوران وہ فلسطینی اور اسرائیلی حکام سے بھی بات چیت کریں گے۔ اس سلسلے میں ان کا کہنا تھا کہ ’ امن مذاکرات کے سلسلے میں دونوں ممالک کے لیے یہ بہترین موقع ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||