رائس امریکہ کی نئی وزیر خارجہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سینٹ کی ووٹنگ کے بعد کونڈالیزارائس کوصدر جارج بش کی نئی وزیر خارجہ کے طور پر منظوری دے دی گئی۔ کونڈالیزا کی نامزدگی پر بحث کے دوران ڈیموکریٹک اراکان نے عراق جنگ کے دوران ان کے ریکارڈ کی سخت تنقید کی۔ آخرکار 85 سینیٹروں نے ان کی نامزدگی کو منظوری دیدی جبکہ 13 ووٹ ان کے خلاف گئے۔دوسری مرتبہ ایسا ہوا ہے جب وزیر خارجہ کے عہدے کے لئے نامزد ہونے والے امیدوار کے خلاف اتنے ووٹ پڑے ہوں۔ سینیٹ کی کمیٹی نے البرٹو گونزالیس کی بھی نئے اٹارنی جنرل کے عہدے کے لئے منظور ی دی ہے۔ مسٹر بش کا کہنا ہے کہ کونڈالیزا رائس ایک اچھی وزیر خارجہ ثابت ہوں گی۔ قومی سلامتی کے مشیر کا عہدہ سنبھالنے والی کونڈالیزا رائس نے پہلی سیاہ فارم خاتون وزیر خارجہ ہونےکا اعزاز حاصل کرکے تاریخ میں مقام حاصل کر لیا۔ توقع ہے کہ محترمہ رائس بدھ کی شام کو اپنے نئے عہدے کا حلف لیں گی اور جمعرات کی صبح نئے دفتر میں منتقل ہو جائیں گی۔ اگرچہ ان کی حلف برداری کی بڑی تقریب جمعہ کو ہوگی۔ 50 سالہ کونڈالیزا رائس صدر بش کےقریبی لوگوں میں سے ہیں اور ان کی عراق پالیسی میں پوری طرح شامل تھیں۔ مسٹر پاؤل نے نومبر میں انتخابات کے بعد ہی اپنے استعفے کا اعلان کر دیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||