BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 March, 2004, 17:22 GMT 22:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کونڈالیزا اعلانیہ حلفیہ بیان دیں گی
News image
کونڈالیزا رائس صدر بش کی قومی سلامتی کی مشیر ہیں
وائٹ ہاؤس کے موقف میں اچانک تبدیلی کے بعد قومی سلامتی کی مشیر کونڈالیزا رائس گیارہ ستمبر کمیش کے سامنے اعلانیہ اور حلفیہ بیان دیں گی۔

اس سے قبل حکام اس بات پر مصر تھے کہ ان کا بیان علیحدگی میں اور بنا حلف کے لیا جائے۔ تاہم اب وہ باقاعدہ سماعت بھگتائیں گی۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب کا کہنا ہے کہ موقف کی یہ تبدیلی ایک حیران کن قلابازی کے مترادف ہے۔

صدر بش اور کونڈالیزا کا کہنا تھا کہ کمیشن کے سامنے ان کی پیشی اختیارات کی آئینی تقسیم میں مداخلت کے مترادف ہوگی۔

تاہم اب یہ نئی پیشکش اس شرط پر کی گئی ہے کہ اسے مثال نہیں بنایا جائے گا۔

گزشتہ ہفتے سلامتی کے ایک سابق مشیر رچرڈ کلارک نے بش انتظامیہ پر الزام لگایا تھا کہ اس نے دہشت گردی کے بارے میں ملنے والی معلومات کو اس لئے اہمیت نہیں دی کہ وہ عراق پر حملے کے لئے ذہن بنا چکی تھی۔

رچرڈ نے دعوٰی کیا کہ صدر بش نے ان پر دباؤ ڈالا تھا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں اور صدام حکومت میں تعلق تلاش کیا جائے۔

گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو نیویارک پر ہونے والے خودکش حملوں سے متعلق پالیسی کے بارے میں تحقیقات کرنے والے کمیشن کی نظر میں کونڈالیزا رائس ایک اہم گواہ ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد