کونڈالیزا اعلانیہ حلفیہ بیان دیں گی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وائٹ ہاؤس کے موقف میں اچانک تبدیلی کے بعد قومی سلامتی کی مشیر کونڈالیزا رائس گیارہ ستمبر کمیش کے سامنے اعلانیہ اور حلفیہ بیان دیں گی۔ اس سے قبل حکام اس بات پر مصر تھے کہ ان کا بیان علیحدگی میں اور بنا حلف کے لیا جائے۔ تاہم اب وہ باقاعدہ سماعت بھگتائیں گی۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب کا کہنا ہے کہ موقف کی یہ تبدیلی ایک حیران کن قلابازی کے مترادف ہے۔ صدر بش اور کونڈالیزا کا کہنا تھا کہ کمیشن کے سامنے ان کی پیشی اختیارات کی آئینی تقسیم میں مداخلت کے مترادف ہوگی۔ تاہم اب یہ نئی پیشکش اس شرط پر کی گئی ہے کہ اسے مثال نہیں بنایا جائے گا۔ گزشتہ ہفتے سلامتی کے ایک سابق مشیر رچرڈ کلارک نے بش انتظامیہ پر الزام لگایا تھا کہ اس نے دہشت گردی کے بارے میں ملنے والی معلومات کو اس لئے اہمیت نہیں دی کہ وہ عراق پر حملے کے لئے ذہن بنا چکی تھی۔ رچرڈ نے دعوٰی کیا کہ صدر بش نے ان پر دباؤ ڈالا تھا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں اور صدام حکومت میں تعلق تلاش کیا جائے۔ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو نیویارک پر ہونے والے خودکش حملوں سے متعلق پالیسی کے بارے میں تحقیقات کرنے والے کمیشن کی نظر میں کونڈالیزا رائس ایک اہم گواہ ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||