گیارہ ستمبر: پاؤل، رمزفیلڈ کی پیشی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بش انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکار گیارہ ستمبر کے حملوں کی تحقیق کرنے والے کمشن کے سامنے پیش ہونگے۔ امریکی وزیر خارجہ کولن پاؤل اور وزیر دفاع ڈیوڈ رمزفیلڈ کی گیارہ ستمبر کے دہشت گرد حملوں کی آزادانہ تحقیق کرنے والے کمشن کے سامنے پیشی منگل کے روز متوقع ہے۔ کلنٹن انتظامیہ کے دو اعلیٰ اہلکار سابق وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ اور سابق وزیر دفاع ولیم کوہن بھی کمشن کے سامنے ہوں گے تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ آیا ان کی جانب سے دی گئی وارننگ کو ان کے بعد آنے والی بش انتظامیہ نے نظر انداز تو نہیں کر دیا تھا۔ سوموار کو وائٹ ہاؤس میں سلامتی کے سابق ماہر رچرڈ کلارک نے صدر بُش پر الزام لگایا ہے کہ وہ ’دہشت گردی‘ سے نمٹنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ خود رچرڈ کلاک بدھ کے روز کمشن کے سامنے پیش ہوں گے۔ وائٹ ہاؤس نے دہشت گردی کے خلاف صدر بش کی پالیسیوں پر رچرڈ کلارک کی تنقید کو مسترد کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے رچرڈ کلارک کے بیان کو رد کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ ان کے بیان کا مقصد نومبر میں ہونے والے انتخابات سے پہلے صدر بش کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ رچرڈ کلارک نے کہا کہ صدر بُش نے گیارہ ستمبر سے پہلے القاعدہ کی طرف سے کسی بڑی حملے کے بارے میں ملنے والے اشاروں کو نظر انداز کر دیا تھا اور عراق کی طرف سے ملنے والے نام نہاد خطرے پر زیادہ توجہ دی تھی۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعد میں امریکی صدر نے عراق اور القاعدہ کے درمیان روابط ثابت کرنے کی کوشش کی حالانکہ ان کو بتایا گیا تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ رچرڈ کلارک نے کہا کہ یہ ناقابل فہم ہے کہ صدر بُش انتخابی مہم میں ’دہشت گردی‘ سے نمٹنے کا دعویٰ کر رہے ہیں جبکہ گیارہ ستمبر سے پہلے وہ اس چیز کو نظر انداز کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صدر بُش ایسا نہ کرتے تو شاید گیارہ ستمبر کے حملوں کو روکا جا سکتا تھا۔ وائٹ ہاؤس میں حکام نے رچرڈ کلارک کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ غلط فہمی کا شکار ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ رچرڈ کلارک کے بیان کے سیاسی مقاصد بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ امریکہ میں نومبر میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار ایڈم بروکس کا کہنا ہے کہ رچرڈ کلارک کا ریکارڈ بہت اچھا ہے اور ان کو اتنی آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایڈم بروکس نے بتایا کہ رچرڈ کلارک صدر ریگن کے دور اقتدار سے لے کر فروری سن دو ہزار تین میں مستعفی ہونے تک ہر انتظامیہ کا حصہ رہے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطا بق اگر رچرڈ کلارک نے وہاں بھی صدر بُش کے خلاف الزامات دہرائے تو یہ انتظامیہ کے لئے خِفت کا باعث ہو سکتا ہے۔ رچرڈ کلارک کی کتاب ’اگینسٹ آل اینیمیز‘ شائع ہونے والی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||