بُش کمیشن کے سامنے پیش ہونگے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر جارج بُش ملک میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بارے میں تحقیقات کرنے والے وفاقی کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے لئے رضا مند ہو گئے ہیں۔ تاہم یہ ملاقات بند کمرے میں ہوگی۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ ان کے بیان کا کتنا حصہ شائع کیا جائے گا۔ یہ امریکہ کے حاضر سروس صدر کے لئے ایک غیر معمولی قدم ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ حالیہ دنوں میں صدر پر ہونے والی تنقید کے رد عمل کے طور پر کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے اس سلسلے میں انتظامیہ صدر بُش کا ایئر نیشنل گارڈ میں سروس کا ریکارڈ بھی شائع کر چکی ہے۔ گیارہ ستمبر کے واقعات کے بارے میں تحقیق کرنے والے کمیشن نے بُش انتظامیہ کی طرف سے عدم تعاون کی شکایت کی تھی۔ کمیشن کے بارے میں خیال تھا کہ وہ مئی کے آخر تک اپنی رپورٹ جاری کر دے گا لیکن اب ایسا معلوم ہوتا کہ یہ انتخابات سے پہلے ممکن نہیں ہوگا۔ خیال ہے کہ حساس معلومات پر مبنی ہونے کی وجہ سے صدر بُش کا زیادہ تر بیان راز ہی میں رہے گا۔ لیکن اس کے باوجود ان کی پیشی کے سیاسی اثرات کو رد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ کمیشن کے سوالات اس بارے میں ہوں گے کہ جارج بُش کو گیارہ ستمبر کے حملوں کے بارے میں کیا اطلاعات تھیں اور کیا نہیں؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||