| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بُش پر امریکہ کو تنہا کرنے کا الزام
امریکی صدر بش نے کانگریس سے اپنے سالانہ خطاب میں عراق میں امریکی اور اتحادی افواج کی کارروائیوں اور کردار کا دفاع کیا ہے۔ لیکن ان کے ناقدین کے مطابق ان کی پالیسیوں کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ملک کی تنہائی میں اضافہ ہوا ہے۔ کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کی اہم رہنما نینسی پیلوسی نے کا کہنا تھا کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کی وجہ سے، جس میں دوسرے ممالک کو ساتھ شامل نہیں کیا گیا، عراق اور افغانستان کی جنگ کا کل بوجھ امریکی عوام کو برداشت کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وسائل جو تعلیم اور صحت کے شعبوں میں لگنے چاہیے تھے خارجہ پالیسی پر استعمال ہو گئے ہیں۔ ایک اعلیٰ فلسطینی اہلکار صائب ارکات نے خدشے کا اظہار کیا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ کے معاملات سے ہاتھ کھینچ لے گا اور اسرائیل کو غرب اردن میں تعمیراتی کام جاری رکھنے اور تیزی سے باڑ لگانے کا موقع ملے گا۔ امریکی صدر نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ عراق میں اتحادی افواج کے کردار پر تنقید کی گئی ہے ’لیکن کئی ممالک کی افواج کی قیادت کرنا اور لوگوں کے اعتراضات تسلیم کرلینا دو مختلف باتیں ہیں اور امریکہ کبھی بھی اپنے لوگوں کے تحفظ کے دفاع کے لئے کسی سے اجازت نہیں لے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں امریکہ اور اتحادی افواج نے صدام حکومت کا خاتمہ کرکے اقوام متحدہ کے مطالبات کی تکمیل کی ہے۔ امریکی صدر نے امریکیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ’دہشتگردی‘ کے خلاف نامکمل جنگ میں ان کا ساتھ دیں۔ صدر بش کا کہنا تھا کہ امریکہ میں چند حلقے عراق جنگ کے خلاف تھے تاہم اگر یہ جنگ نہ ہوتی تو صدام حسین کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں کا پروگرام آج بھی جاری ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی تعیینات ہیں وہ مظلوم افراد کے لئے امید کا پیغام ہیں، دہشتگردوں کو انصاف پر مبنی سلوک مہیا کررہی ہیں اور امریکہ کو مزید محفوظ بنا رہی ہیں۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ امریکہ اس غلط فہمی میں نہیں رہ سکتا کہ دہشتگرد کوئی سازش نہیں کررہے یا پھر معذول کی گئی حکومتیں خطرے کا باعث نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گیارہ ستمبر کے واقعات کے دو برس بعد بھی امریکی یہ نہیں سوچ سکتے کہ خطرہ ٹل چکا ہے۔ بش کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ان دہشتگردوں کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کیا ہے جنہوں نے جنگ شروع کی تھی اور القاعدہ کے دو تہائی رہنماؤں کو ہلاک یا گرفتار کیا جاچکا ہے۔ صدر بش نے کانگریس سے کہا ہے کہ امریکی قیادت کے باعث دنیا بدل رہی ہے۔ صدر بش نے کہا کہ جب تک مشرق وسطٰی میں عامریت، استعال اور بے چینی رہے گی، یہ خطہ ایسے افراد اور تحریکیں پیدا کرے گا جو امریکیوں اور ان کے دوستوں کے لئے خطرے کا باعث ہوں گی۔ صدر بش نے اپنے خطاب کے دوران اعلان کیا ہے کہ امریکہ کا خبریں نشر کرنے والا ادارہ ’وائس آف امریکہ‘ اپنا دائرہ کار وسیع کررہا ہے اور بہت جلد اس کی نشریات عربی اور فارسی میں بھی شروع ہوجائیں گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جلد ہی خبریں نشر کرنے والا ایک نیا ٹی وی چینل شروع کیا جارہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||