بُش کےعراق کمیشن پر تنقید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اعلیٰ ارکان نے صدر جارج بش کی طرف سے عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے بارے میں خفیہ اداروں کی اطلاعات کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ کمیشن پر تنقید کی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی نینسی پیلوسی نے کہا کہ کسی ایسے کمیشن پر اعتبار کرنا بہت مشکل ہوگا جو صرف صدر کے نامزد کردہ ارکان پر مشتمل ہوگا۔ کچھ دیگر ارکان کا کہنا ہے کہ کمیشن کا جس میں دونوں جماعتوں کے اراکن شامل ہیں دائرہ کار بہت وسیع ہے اور کام کے لئے بہت زیادہ وقت درکار ہے۔ عراق میں جنگ کے بعد بھی وسیع تباہی کے ہتھیار برآمد نہیں کیے جاسکے ہیں۔ اس تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی مشترکہ طور پر حزب اختلاف کی ڈیموکریٹس اور حکراں ریپبلکن جماعتوں کے نمائندگان کریں گے۔ عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیار کے بارے میں خفیہ اداروں کی اطلاعات و کارکردگی کے ساتھ ساتھ یہ تحقیقاتی کمیشن یہ بھی معلوم کرے گا کہ امریکی ادارے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کے ہتھیاروں کے بارے میں کیا جانتے ہیں۔ یہ کمیشن اپنی رپورٹ آئندہ امریکی صدارتی انتخابات کے کافی مدت گزرنے کے بعد یعنی اکتیس مارچ سن دو ہزار پانچ تک جمع مرتب کرپائے گا۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار ایڈم بروکس کا کہنا ہے کہ اس وقت تک، جب تک کہ کمیشن اپنی رپورٹ مرتب کرسکے، حکمراں ریپبلکن جماعت کو امید ہے کہ صدر بش آئندہ مدت کے لیے محفوظ طور پر صدارتی انتخابات جیت چکے ہوں گے اور اگر کمیشن کی جانب سے ان پر کوئی تنقید کی بھی جائے گی تو سیاسی طور پر اسے برداشت کرسکنے کی حیثیت میں ہوں گے۔ وائٹ ہاؤس میں ایک مختصر خطاب میں صدر بش نے کہا ’پینل (کمیشن) امریکی خفیہ اداروں کی صلاحیت، خصوصاً وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے متعلق ہماری خفیہ معلومات کا جائزہ لے گا۔‘ امریکہ و برطانیہ کی جانب سے گزشتہ مارچ میں عراق پر لشکر کشی کے لیے وہاں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی موجودگی کے خطرے کو ہی جواز بنایا گیا تھا۔ تاہم اب تک امریکی اسحلہ کے ماہر اور سابق چیف ویپن انسپکٹر ڈیوڈ کے کی قیادت میں قائم ’عراق سروے گروپ‘ کی کوششوں کے بھی باوجود وسیع تباہی کے یہ ہتھیار نہیں مل سکے ہیں۔ صدر بش کا کہنا ہے ’ہم نے عزم کررکھا ہے کہ یہ جان سکیں کہ آخر کیوں؟‘ ’ہم نے یہ بھا عزم کررکھا ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ امریکی خفیہ ادارے مستقبل میں لاحق ہونے کسی بھی چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار ہوں۔‘ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے بھی کابینہ کے سابق وزیر لارڈ بٹلر کی سربراہی میں ایک آزاد کمیشن قائم کیا ہے جو ملک کو جنگ تک لے جانے والی خفیہ اطلاعات کے بارے میں تحقیقات کرے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||