| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
خفیہ معلومات ناقص تھیں: کونڈولیزا رائس
وائٹ ہاؤس نے پہلی بار تسلیم کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ عراق کے حوالے سے خفیہ معلومات غلط ہوں۔ اب تک امریکی صدر جارج بش نے اصرار کیا ہے کہ عراق سے وسیع تباہی کے ہتھیار مل جائیں گے۔ لیکن اب ان کی قومی سلامتی کی مشیر کونڈولیزا رائس نے مختلف انٹرویوز میں یہ بات مان لی ہے کہ جنگ سے پہلی جو خفیہ معلومات جمع کی گئی تھیں ان میں نقائص ہو سکتے ہیں۔ جس استدلال کی بنیاد پر عراق کے خلاف جنگ کی گئی تھی وہ یہ تھا کہ وہاں سے وسیع تباہی کے ہتھیار ختم کرنے ہیں۔ لیکن سقوطِ بغداد کے نو ماہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک ان ہتھیاروں کا پتہ نہیں چل سکا۔ مس رائس کے حالیہ انٹرویوز سے قبل امریکہ کے ہتھیاروں کے سابق سینئر معائنہ کار ڈیوڈ کے نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں امریکی حملے سے قبل عراق میں ہتھیاروں کا کوئی خاص ذخیرہ نہیں تھا۔ بی بی سی کے جسٹن ویب نے واشنگٹن سے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ موجود صورتِ حال وائٹ ہاؤس کے لئے بڑی تکلیف دہ بات ہے اور ڈیوڈ کے کے بیان کی روشنی میں بش انتظامیہ کے اہلکاروں کے لئے تو ہتھیاروں کی موجودگی پر اصرار کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ کونڈولیزا رائس نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا: ’میرے خیال میں کہ جنگ میں جانے سے قبل اور بعد کی صورتِ حال اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ (ہتھیاروں سے متعلق) اطلاعات میں اختلاف تھا۔‘ تاہم انہوں نے اس حوالے سے آزادانہ انکوائری کے مطالبات سے صرفِ نظر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معزول عراقی صدر صدام حسین بہت خطرناک تھے اور انتہائی خطرناک مقام پر تھے اور ان کے باعث جو خطرہ پیدا ہوا تھا اس کا سدِ باب ضروری تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||