’ کھلی گواہی نہ دینے پر قائم‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر کی قومی سلامتی کی مشیر کونڈلیزا رائس نےگیارہ ستمبر کے حملوں کی تحقیقات کرنے والے کانگرس کے کمیشن کے سامنے کھلے عام گواہی نہ دینے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ سرکاری ضابطوں کی پاسداری کر رہی ہیں۔ کونڈولیزا رائس نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اپنے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں ہے۔ کثیر الجماعتی کمیشن صدر کی قومی سلامتی کی مشیر کو کئی بار کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے لیے کہہ چکا ہے۔ رپبلکن پارٹی کے ایک کمشنر جان لیہمین نے کھلے عام گواہی دینے سے کونڈولیزا رائس کے انکار کو ایک بڑی سیاسی غلطی قرار دیا ہے۔ نامہ نگاروں کے مطابق کونڈولیزا رائس کا کمیشن کے سامنے کھلی گواہی دینے سے انکار صدر کے لیے سیاسی مشکلات کا باعث بنے گا۔ قومی سلامتی کی مشیر ہونے کے حوالے سے کونڈولیزا رائس کمیشن کے لیے ایک اہم گواہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ کانگرس کا یہ کمیشن اس بات کی تحقیق کر رہا ہے کہ گیارہ ستمبر سے پہلے دہشت گردوں کی طرف سے ممکنہ کارروائی کے خطرات سے نبٹنے کے لیے حکومت نے کیا پالیسی اختیار کی تھی اور اس ضمن میں کیا اقدامات کئے تھے۔ ایک ٹی وی انٹر ویو میں کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ بڑے عرصے سے یہ اصول رہا ہے کہ صدر کا قومی سلامتی کا مشیر کانگرس کے سامنے گواہی نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے تقریبا چار گھنٹے تک تنہائی میں کمیشن کے ارکان کے سوالوں کے جواب دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر گیارہ کے حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کے ساتھ وہ ملاقات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن بہت سے لواحقین کونڈولیزا رائس سے اس بیان سے مطمئن نہیں اور وہ ابھی بھی کھلے عام گواہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||