بات چیت ضروری ہے: رائس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش کی نامزد کردہ امریکی وزیرِ خارجہ کونڈالیزا رائس نے کہا ہے کہ وہ دنیا میں طاقت کے توازن کے حصول کے لیے ڈپلومیسی سے کام لیں گی۔ انہوں نے سینیٹ کو بتایا کہ ’ باقی دنیا سے ہمارا رابطہ ایک مکالمے کی صورت میں ہونا چاہیے نہ کہ خود کلامی کی صورت میں‘۔ انہوں نےسینیٹ کی بین الاقوامی تعلقات ِعامہ کمیٹی کے سامنے اپنی تقریر میں کہا کہ ’ہمیں ڈپلومیسی کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ دنیا میں طاقت کا توازن پیدا کیا جا سکے جو کہ آزادی کے لیے ضروری ہے‘۔ کونڈالیزا رائس بطور وزیرِ خارجہ تعیناتی کی منظوری کے لیے سینیٹ کے سامنے پیش ہوئی ہیں۔ سینیٹ کے اس اجلاس میں عراق کا مسئلہ بحث میں سرِ فہرست رہنے کی امید ہے۔ کونڈالیزا رائس صدر بش کی قریبی ساتھیوں میں سے ہیں اور کولن پاول کے جانشین کے طور پر ان کی تقرری میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آ رہی ہے۔ واشنگٹن سے بی بی سی کے نمائندہ کا کہنا ہے کہ کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ کونڈالیزا رائس خارجہ پالیسی کے کس دھڑے سے تعلق رکھتی ہیں۔ نمائندہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ کونڈالیزا رائس صدر کے معتمد ترین حلقے سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ صدر کی پالسیوں سے مکمل اتفاق کرتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||