یہ ایک اعزاز ہے: کونڈولیزا رائس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے قومی سلامتی کی مشیر کونڈولیزا رائس کو وزیرِ خارجہ کے طور پر نامزد کیا ہے۔ پچاس سالہ کونڈولیزا رائس صدر بش کی بہت قریبی ساتھی ہیں۔ اگر امریکی سینیٹ ان کے عہدے کی منظوری دے دیتا ہے تو وہ ملک کی پہلی سیاہ فام وزیرِ خارجہ ہوں گی۔ صدر بش نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں میں انہوں نے مس رائس کے تجربے، مشاورت اور مشاہدے کو بہت سراہا ہے۔ صدر بش نے کہا کہ ’وزیرِ خارجہ دنیا کے لیے امریکہ کا چہرہ ہیں اور ڈاکٹر رائس میں دنیا ہمارے ملک کی طاقت، خوبصورتی اور نفاست دیکھے گی‘۔ صدر بش نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ وہ نائب قومی سلامتی کے مشیر سٹیفن ہیڈلے کو کونڈولیزا رائس کے عہدے پر ترقی دے دیں گے۔ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ ملک کے لیے دوبارہ خدمت انجام دینے کے لیے کہا جانا ان کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ کولن پاول کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بڑے زبردست رہنمائی کرنے والے وزیرِ خارجہ تھے۔
امریکی وزیرِ خارجہ کولن پاول نے منگل کے روز اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اپنے عہدے پر اس وقت تک رہیں گے جب تک اس عہدے کے لیے کسی دوسرے شخص کا انتخاب نہیں کیا جاتا۔ سڑسٹھ سالہ کولن پاول نے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ وہ اس صرف ایک مدت تک اپنے عہدے پر رہیں گے اور ’یہ وقت ہے کہ نجی زندگی کی طرف واپس جایا جائے‘۔ صدر بش نے کولن پاول کو بطور فوجی اور بطور سفارتکار سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کمی محسوس کی جائے گی۔ کولن پاول کے بعد تین اور وزراء نے استعفوں کا اعلان کیا۔ اس طرح اب پندرہ رکنی کابینہ میں سے چھ اہم چہرے جا چکے ہیں۔ اپنے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے کالن پاول نے کہا کہ ’اپنے ملک کی خدمت کرنا میرے لیے ایک بڑی عزت اور اعزاز کی بات تھی‘۔ ’میں صدر بش اور ادارے کے زبردست لوگوں کے ساتھ گزارے ہوئے یہ چار سال ہمیشہ یاد رکھوں گا۔ میرا خیال ہے کہ ہم نے بہت کچھ حاصل کیا ہے‘۔ توانائی کے وزیر سپینسر ابراہم، زراعت کی وزیر این وینیمن اور تعلیم کے وزیر راڈ پیج بھی اپنے استعفوں کا اعلان کر چکے ہیں۔ کولن پاول جو ایک سابق فوجی ہیں بش انتظامیہ کے پہلے دور میں مسلسل وزیر خارجہ کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے ہیں اور انہیں مقابلتاً معتدل مزاج خیال کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ عراق پر بھی سب کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی کے حامی تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||