بش انتظامیہ: پاول سمیت 4مستعفی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وائٹ ہاؤس کی توقع کے مطابق کولن پاول کے بعد تین اور وزراء نے استعفوں کا اعلان کیا ہے۔ اولین اطلاعات میں کولن پاول نے استعفے کا اعلان کیا تھا جس کی تصدیق امریکی دفترِ خارجہ نے کی۔ اس کے بعد وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ اسے توقع ہے کہ بش کابینہ کے مزید تین سینیئر ارکان استعفوں کا اعلان کرنے والے ہیں۔ وائٹ ہاوں کے ترجمان نے ان سینیئر ارکان کے نام نہیں بتائے تھے۔ تاہم اب اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ توانائی، زراعت اور تعلیم کے وزراء، سپینسر ابراہم، آن ونیمین اور روڈ پیج مستعفی ہو گئے ہیں۔ کولن پاول کے استعفے کی خبر سب سے پہلے امریکی ٹی وی چینلوں نے بے نام امریکی اہلکاروں کے حوالے سے دیتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر خارجہ کولن پاول نے کہا ہے کہ وہ مستعفی ہونے کا ارداہ رکھتے ہیں۔ جس کے بعد امریکی وزارتِ خارجہ نے ان کے مستعفی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: ابھی یہ طے نہیں ہے کہ پاول وزارتِ خارجہ سے کب الگ ہوں گے۔ کولن پاول جو ایک سابق فوجی ہیں بش انتظامیہ کے پہلے دور میں مسلسل وزیر خارجہ کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے ہیں اور انہیں مقابلتاً معتدل مزاج خیال کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ عراق پر بھی سب کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی کے حامی تھے۔ امریکی خبر رساں ادارے اے بی سی کا کہنا ہے کہ جیسے ہی ان کے جانشین کا کی تصدیق ہو گی، وہ موجودہ ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جائیں گے۔ عراق پر امریکی سالاری میں کیے جانے والے حملے کی عالمی حمایت حاصل کرنے میں کولن پاول نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ عالمی برادری میں ان کا بہت احترام کیا جاتا ہےتاہم بش انتظامیہ میں انتہائی جارحانہ رویہ رکھنے والے ارکان کے ساتھ ان کی موجودگی بعض اوقات بے میل محسوس کی جاتی رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||