پوتن کے اقدامات پرامریکی تشویش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے بیسلان سکول کے سانحے کے بعد روسی صدر ولادیمر پوتن کے اقدامات کو ملک میں جمہوریت کے فروغ کے لئے خطرناک قرار دیا ہے۔ بیسلان کے اس سکول میں کچھ دن پہلے بچوں سمیت یرغمال بنا لیئے جانے والے تین سو تیس افراد اس فوجی کارروائی میں ہلاک ہوگئے تھے جو ان کی رہائی کے لئے کی گئی تھی۔ اس سانحے کے بعد صدر پوتن نے کئی کڑے اقدامات کیئے ہیں جن کا مقصد مرکز کی گرفت مضبوط کرنا ہے۔ اب امریکی حکام ان اقدامات کو جمہوریت کے لئے ضرر رساں قرار دے رہے ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان رچرڈ باؤچر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور جمہوریت کے فروغ میں نازک توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔ ادھر امریکی وزیرِ خارجہ کولن پاؤل کا اس معاملے پر تبصرہ بھی اس بات کی واضح نشان دہی کرتا ہے کہ صدر پوٹن کے منصوبے کے اثرات کے بارے میں واشنگٹن کو کس حد تک فکرلاحق ہوگئی ہے۔ کولن پاؤل نے کہا کہ یہ منصوبہ عملی طور پر ماضی کی بعض جمہوری اصلاحات کو پیچھے دھکیل دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’میں اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ دہشت گردی سے جنگ کرنا کتنا ضروری ہے لیکن ایک توازن برقرار رکھنا بھی ضروری ہے کہ کہیں کوئی ایسا قدم تو نہیں اٹھایا جارہا ہے جو جمہوری اصلاحات یا جمہوریت کے لۓ ضرر رساں ہو۔‘ امریکہ کی پوری کوشش ہے کہ خود بھی اس بارے میں توازن پیدا کرے کہ ایک جانب روس میں جمہوریت کی بات ہوتی رہے اور دوسری طرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے اس ساتھی کی حمایت کا اظہار بھی ہوتا رہے۔اسی لیے کولن پاؤل اور وزارتِ خارجہ کے بیانات میں روسی اقدامات کے لۓ مشروط حمایت ظاہر کی گئی ہے۔ صدر پوٹن نے حال میں واشنگٹن پر الزام لگایا تھا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دو رخی پالیسی پر چل رہا ہے۔ بسلان کے سکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد امریکہ نے کہا تھا کہ چیچنیا پر سیاسی بات چیت ہونی چاہیئے جس کے جواب میں صدر پوتن نے کہا تھا کہ ’آپ پہلے اسامہ بن لادن کو بلاکے ان سے مذاکرات شروع کیجۓ۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||